برطانیہ کی چانسلر ریچل ریوز نے کہا ہے کہ ملک کی خستہ حال پبلک سروسز کو بہتر بنانے کے لیے برطانیہ کے امیر طبقے کو زیادہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اپنی حالیہ خزانہ جاتی بجٹ میں 26 ارب پاؤنڈ کے اضافی ٹیکس کو درست اور ضروری فیصلہ قرار دیا۔

ریچل ریوز نے کہا کہ بجٹ میں اسکولوں، اسپتالوں، توانائی کے نئے منصوبوں اور ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی گئی ہے۔

انہوں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا کہ پیداواری صلاحیت میں کمی کے بعد حکومت کو اخراجات میں کٹوتی کرنی چاہیے۔

چانسلر ریوز نے کہا کہ عوام نے تبدیلی کے لیے ووٹ دیا تھا، اس لیے وہ عوامی خدمات میں کٹوتی کرنے پر تیار نہیں تھیں۔ یہ بجٹ منصفانہ اور ضروری فیصلوں پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہاکہ کم سرمایہ کاری ملک کی کمزور معاشی نمو کو مزید نقصان پہنچائے گی۔ ہم کمزور معاشی ترقی کے مسئلے سے کبھی نہیں نکل پائیں گے جب تک معیشت میں سرمایہ کاری نہیں کی جاتی۔

بجٹ کے بعد ریوز کو آفس فار بجٹ ریسپانسیبلٹی (OBR) کی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، جس نے اس دعوے پر سوال اٹھایا کہ چانسلر نے بہتر معاشی پیشگوئیوں کی بنیاد پر انکم ٹیکس میں اضافے کا منصوبہ ترک کیا۔ OBR کا کہنا ہے کہ حکومت کو ان پیشگوئیوں کا علم پہلے ہی تھا۔ تاہم چانسلر کا کہنا ہے کہ پبلک سروسز اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل اور مضبوط سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

.

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری

پڑھیں:

ایس آئی ایف سی کوآرڈینیٹر کا کاروبار دوست معاشی روڈ میپ پیش

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے نیشنل کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد نے ملکی معیشت کو مضبوط اور مسابقتی بنانے کے لیے کاروبار دوست روڈ میپ پیش کیا ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میں پاکستان بزنس کونسل کی جانب سے منعقدہ “ڈائیلاگ آن اکانومی” میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کارپوریٹ شعبے پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے، شرح سود میں کمی لانے اور حقیقت پسندانہ و مسابقتی ایکسچینج ریٹ اپنانے پر غور کر رہی ہے۔
جنرل سرفراز احمد نے بتایا کہ پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ واضح اقتصادی ترقی کا کوئی روڈ میپ نہ ہونا ہے۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ سبسڈی اور تحفظات کے نظام سے نکل کر برآمدات پر مبنی معیشت کے ماڈل پر اتفاق کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کارپوریٹ انکم ٹیکس کو 29 فیصد سے 25 فیصد کرنے، سپر ٹیکس اور انٹر کارپوریٹ ڈیویڈنڈ ٹیکس ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افراط زر میں کمی کے باوجود 11 فیصد شرح سود برقرار رکھنا درست نہیں، اس لیے شرح سود کو بھی کم کیا جانا چاہیے۔ جنرل سرفراز نے مصنوعی طور پر ڈالر کی قیمت قابو میں رکھنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو مارکیٹ بیسڈ اور حقیقت پسندانہ ایکسچینج ریٹ اپنانا ہوگا۔
لیفٹیننٹ جنرل نے بتایا کہ پاکستان کا موجودہ ماڈل صارفیت اور قرضوں پر مبنی ہے، جس سے ملک کو بار بار مالی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب پاکستان کو برآمدات پر مبنی اقتصادی ماڈل اپنانا ہوگا کیونکہ درآمدی متبادل نظام ناکام ہو رہا ہے۔
جنرل سرفراز احمد نے مقامی تاجروں کی جانب سے دولت کا بیرون ملک منتقل کرنے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ پاکستان میں کمائی گئی دولت زیادہ تر یو اے ای، لندن، سنگاپور اور نیویارک چلی جاتی ہے اور ملک میں دوبارہ سرمایہ کاری نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری محض 1.2 ارب ڈالر ہے اور جب تک مقامی کاروباری طبقہ پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا، غیر ملکی سرمایہ کار بھی نہیں آئیں گے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ایس آئی ایف سی سعودی عرب سمیت دیگر ممالک سے سرمایہ کاری کے لیے سنگل ونڈو پلیٹ فارم کے طور پر قائم کیا گیا تاکہ منصوبوں کی منظوری کا عمل تیز اور آسان بنایا جا سکے۔

 

متعلقہ مضامین

  • جرمن کمپنی کی حب میں 5 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری، مفاہمتی یاداشت پر دستخط
  • نفیس سرافت پر 1,613 کروڑ ٹکے کے فراڈ اور منی لانڈرنگ کا کیس
  • پاکستان پیداواری ملک نہیں صارف منڈی بن رہا ہے!
  • ایس آئی ایف سی کوآرڈینیٹر کا کاروبار دوست معاشی روڈ میپ پیش
  • چین کا بنگلہ دیش میں پٹ سن پر منحصر صنعتوں میں بڑی سرمایہ کاری کا عندیہ
  • پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دو طرفہ سرمایہ کاری معاہدہ
  • ایس آئی ایف سی کوآرڈی نیٹر کا کاروبار دوست معاشی روڈ میپ جاری
  • دنیا میں عزت بڑھنے کے باوجود ہم ایک پیسے کی سرمایہ کاری نہیں لا پارہے، مفتاح اسماعیل
  • دنیا میں عزت بڑھنے کے باوجود سرمایہ کاری نہیں آرہی: مفتاح اسماعیل