برطانیہ کی خستہ حال پبلک سروسز کی بحالی کا بوجھ امیروں کو اٹھانا ہوگا، چانسلر ریچل ریوز
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
برطانیہ کی چانسلر ریچل ریوز نے کہا ہے کہ ملک کی خستہ حال پبلک سروسز کو بہتر بنانے کے لیے برطانیہ کے امیر طبقے کو زیادہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اپنی حالیہ خزانہ جاتی بجٹ میں 26 ارب پاؤنڈ کے اضافی ٹیکس کو درست اور ضروری فیصلہ قرار دیا۔
ریچل ریوز نے کہا کہ بجٹ میں اسکولوں، اسپتالوں، توانائی کے نئے منصوبوں اور ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی گئی ہے۔
انہوں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا کہ پیداواری صلاحیت میں کمی کے بعد حکومت کو اخراجات میں کٹوتی کرنی چاہیے۔
چانسلر ریوز نے کہا کہ عوام نے تبدیلی کے لیے ووٹ دیا تھا، اس لیے وہ عوامی خدمات میں کٹوتی کرنے پر تیار نہیں تھیں۔ یہ بجٹ منصفانہ اور ضروری فیصلوں پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کم سرمایہ کاری ملک کی کمزور معاشی نمو کو مزید نقصان پہنچائے گی۔ ہم کمزور معاشی ترقی کے مسئلے سے کبھی نہیں نکل پائیں گے جب تک معیشت میں سرمایہ کاری نہیں کی جاتی۔
بجٹ کے بعد ریوز کو آفس فار بجٹ ریسپانسیبلٹی (OBR) کی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، جس نے اس دعوے پر سوال اٹھایا کہ چانسلر نے بہتر معاشی پیشگوئیوں کی بنیاد پر انکم ٹیکس میں اضافے کا منصوبہ ترک کیا۔ OBR کا کہنا ہے کہ حکومت کو ان پیشگوئیوں کا علم پہلے ہی تھا۔ تاہم چانسلر کا کہنا ہے کہ پبلک سروسز اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل اور مضبوط سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔