Juraat:
2026-07-24@01:44:31 GMT

پاکستان پیداواری ملک نہیں صارف منڈی بن رہا ہے!

اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT

پاکستان پیداواری ملک نہیں صارف منڈی بن رہا ہے!

پاکستان گزشتہ کئی سال سے غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، اور ان کوششوں میں کچھ کامیابیاں بھی ہوئی جس کا اندازہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران مختلف ممالک کے ساتھ ایم او یوز پر دستخطوں سے لگایا جاسکتاہے لیکن معیشت کا بغور جائزہ لیا جائے تو ظاہر ہوتاہے کہ اس مقصد کے تحت کی گئی کوششوں سے حاصل ہونے والے اقتصادی فوائد محدود ہی رہے ہیں۔

مختلف ممالک کے سرمایہ کاری کے حوالے سے کئے جانے والے معاہدوں کے باوجود اب تک نہ صرف ملک میں کوئی نئی صنعت قائم نہیں ہوسکی بلکہ موجود کارخانے بھی بند ہو رہے ہیں اور سرمایہ کا اپنا سرمایہ سمیٹ کر اپنا قبلہ تبدیل کررہے ہیں، نئی صنعتیں قائم نہ ہونے کی وجہ سے ہماری برآمدات کمزور ہیں اور ملک اپنی ضرورت سے زیادہ درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔لاہور جرنل آف اکنامکس میں شائع ہونے والی ایک تازہ تحقیق کے مطابق مسئلہ صرف یہ نہیں کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کم آ رہی ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں سرمایہ کاری کس نوعیت کی ہو رہی ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتاہے کہ زیادہ تر غیر ملکی کمپنیاں پاکستان کو ایک بڑھتی ہوئی صارف منڈی کے طور پر دیکھتی ہیں یعنی وہ یہاں مصنوعات فروخت کرنے آتی ہیں، نہ کہ صنعت اور برآمدی صلاحیت بڑھانے میں مدد دینے۔ نتیجتاً پاکستان غیر ملکی اشیا کے لیے ایک بڑی منڈی بنتا جا رہا ہے، مگر ایک مضبوط پیداواری مرکز نہیں بن رہا۔تحقیق کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری جب بینکاری، ٹیلی کام، ریٹیل نیٹ ورکس اور مواصلاتی خدمات جیسے شعبوں میں آتی ہے تو یہ سرمایہ کاری ان کمپنیوں کے لیے تو فائدہ مند ہوتی ہے، لیکن پاکستان کی پیداواری قوت اور عالمی مقابلے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ نہیں کرتی۔ ان شعبوں کا انحصار درآمدی مشینری، ٹیکنالوجی اور خدمات پر ہوتا ہے، جس سے درآمدی بل بڑھتا ہے۔ بظاہر انڈسٹری کا ایک حصہ منافع کماتا رہتا ہے، مگر قوم کے پاس آنے والے ڈالر کم اور باہر جانے والے زیادہ ہوتے ہیں۔ یوں پاکستان عالمی اداروں کے لیے ایک منافع بخش منڈی تو بن جاتا ہے، مگر مینوفیکچرنگ اور برآمدات میں عالمی مقابلہ کار نہیں بن پاتا۔اس کے مقابلے میں تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر غیر ملکی سرمایہ کاری پیداواری شعبوں میں ٹیکنالوجی، استعداد اور کارکردگی بڑھانے پر مرکوز ہو جیسے ٹیکسٹائل، فوڈ پروسیسنگ، دھاتیں، کیمیکل اور انجینئرنگ تو پاکستان کی برآمدات اور جی ڈی پی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ شعبے پاکستان میں پہلے سے موجود ہیں اور کئی دوسرے صنعتی سلسلوں سے جڑے بھی ہیں۔ جب ان شعبوں میں ٹیکنالوجی بہتر ہوتی ہے تو فائدہ صرف ایک صنعت تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری سپلائی چین، افرادی قوت اور متعلقہ شعبے مضبوط ہوتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر ان پیداواری شعبوں میں ٹیکنالوجی اپ گریڈ کی جائے تو برآمدات میں واضح اضافہ ہو سکتا ہے اور درآمدی انحصار کم ہو سکتا ہے، جس سے پاکستان کھپت نہیں بلکہ پیداوار کے ذریعے ترقی کرے گا۔تحقیق کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ پاکستان کو سرمایہ کاری کا انتخاب سمجھداری سے کرنا چاہئے۔سرمایہ کاری ایسے شعبوں میں آنی چاہیے جو کارخانے قائم کریں، ہنرمند روزگار پیدا کریں اور پاکستان کو عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنائیں نہ کہ صرف مقامی صارفین کو زیادہ چیزیں فروخت کریں۔ حکومت کو ایسی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو نئی ٹیکنالوجی لائیں، مقامی صنعت کی کوالٹی بہتر بنائیں اور عالمی سپلائی چین سے جڑنے میں مدد دیں ۔ اس کے لیے برآمدی صنعتوں کے لیے بہتر مراعات، واضح قوانین، کاروباری لاگت میں کمی اور ایک ایسا ماحول ضروری ہے جہاں مقامی اور غیر ملکی کمپنیاں مل کر آگے بڑھیں، نہ کہ ایک دوسرے پر حاوی ہوں ۔پاکستان اس وقت ایک اہم معاشی موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر ہم سرمایہ کاری کو صرف صارف خدمات تک محدود رکھتے رہے تو ہم غیر ملکی اشیا کی منڈی تو بڑھا لیں گے مگر اپنی صنعتی بنیاد مضبوط نہیں کر سکیں گے۔ لیکن اگر سرمایہ کاری کو پیداوار اور برآمدات بڑھانے کی سمت دیں تو پاکستان ایک زیادہ مضبوط اور پائیدار معاشی ڈھانچے کی طرف بڑھ سکتا ہے۔تحقیق کا نتیجہ واضح ہے ،پاکستان کو صرف غیر ملکی سرمایہ نہیں بلکہ وہ سرمایہ چاہیے جو پاکستان کو پیداواری قوت اور صنعتی خود کفالت دے اگر ہم موجودہ راستے پر چلتے رہے تو ڈالر جائیں گے، صنعتیں کمزور ہوں گی اور مواقع ضائع ہوں گے۔فیصلہ سادہ ہے مقامی پیداواری صلاحیت میں سرمایہ کاری کرو یا دوسروں پر انحصار کرتے رہو۔
٭٭٭

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: غیر ملکی سرمایہ سرمایہ کاری پاکستان کو سرمایہ کا سکتا ہے کے لیے

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف