قابض انتظامیہ نے کشمیری صحافی عرفاز دانگ کا گھر مسمار کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
ذرائع کے مطابق ایک صحافی کو اپنی پیشہ وارانہ فرائض ادا کرنے پر انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانا ناقابل قبول اور انتہائی تشویشناک عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض انتظامیہ کی طرف سے کشمیری صحافی عرفاز دانگ کے گھر کو مسمار کرنا صرف ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ آزادی صحافت، جمہوری اقدار اور آواز اٹھانے کے حق پر ایک شرمناک دانستہ حملہ ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک صحافی کو اپنی پیشہ وارانہ فرائض ادا کرنے پر انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانا ناقابل قبول اور انتہائی تشویشناک عمل ہے۔جمہوریت میں صحافی عوام کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں۔جس ملک میں سچ جرم بن جائے وہاں جمہوریت تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتی ہے۔ بھارتی قابض انتظامیہ نے سچ دنیا کے سامنے لانے پر آج کشمیری صحافی عرفاز دانگ کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا ہے تو سچ بولنے کی ہمت کرنے پر مودی حکومت کل کسی اور صحافی کو بھی انتقامی کارروائی کا نشانہ بنا سکتی ہے۔ آزادی صحافت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ایک صحافی پر حملہ پوری جمہوریت پر حملے کے مترادف ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی قابض انتظامیہ نے جموں میں معروف صحافی عرفازدانگ کا رہائشی مکان، جہاں وہ 40 سال سے مقیم تھے کو بغیر کسی پیشگی نوٹس کے مسمار کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انتقامی کارروائی کا نشانہ قابض انتظامیہ
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔