بنوں میںآپریشن: بھارتی حمایت یافتہ 22 دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251126-01-25
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) بنوں میں سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کے 22 دہشت گرد ہلاک کردیے گئے۔ صدر مملکت، وزیراعظم اور وفاقی وزیر داخلہ کابنوں میں آپریشن پر سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر ضلع بنوں میں سیکورٹی فورسز نے 24 نومبر کو کارروائی کی، جہاں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد موجود تھے۔ آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 22 خوارج جہنم واصل کر دیے گئے۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق کارروائی کے بعد کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی روپوش بھارتی سرپرستی یافتہ دہشتگرد کو گرفتار کیا یا ٹھکانے لگایا جا سکے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت فیڈرل ایپکس کمیٹی کے وژن عزمِ استحکام کے تحت پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسدادِ دہشتگردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی سرپرستی یافتہ دہشتگردی کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔ دوسری جانب صدر مملکت، وزیراعظم اور وفاقی وزیر داخلہ نے بنوں میں آپریشن پر سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے سیکورٹی فورسز کے بروقت اور مؤثر ردعمل کو سراہا۔ صدر مملکت نے کہا کہ بھارتی پشت پناہی میں سرگرم خوارج کا قلع قمع ریاست کی اولین ترجیح ہے۔ شہدا اور غازی قوم کا فخر ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ عزم استحکام کے وژن کے تحتسیکورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان کی افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پر عزم ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیکورٹی فورسز صدر مملکت کے مطابق
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔