نادرا نے شہریوں کو جعلی ویب سائٹ سے خبردار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں، خصوصاً بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ایک جعلی ویب سائٹ سے خبردار کردیا ہے۔ نادرا نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں واضح کیا ہے کہ idcardtracking.online ایک جعلی ویب سائٹ ہے جس کا ادارے سے کوئی تعلق نہیں۔
نادرا نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ شناختی کارڈ یا نائیکوپ سے متعلق خدمات کے لیے کسی ایجنٹ یا تھرڈ پارٹی سروس فراہم کنندہ سے رابطہ نہ کریں کیونکہ اس طرح کے ذرائع فراڈ اور جعلسازی کے امکانات بڑھا دیتے ہیں۔
ادارے نے ہدایت کی ہے کہ سیکیورٹی اور درست معلومات کے لیے صرف پاک آئی ڈی موبائل ایپ کا استعمال کریں جو نادرا کا آفیشل پلیٹ فارم ہے۔
اس سے قبل نادرا نے معاملے کی تحقیقات کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے رجوع کیا تھا اور شکایت درج کرائی تھی۔ نادرا کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک، خصوصاً برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کو ہوشیار رہنا چاہیے کیونکہ ’نادرا کارڈ سینٹر‘ کے نام سے چلنے والی جعلی ویب سائٹ دھوکا دہی میں ملوث ہے۔
نادرا حکام کے مطابق یہ ویب سائٹ اوورسیز پاکستانیوں کو شناختی کارڈ اور نائیکوپ سے متعلق سہولیات یا ادارے میں ملازمتوں کی فراہمی کا جھانسہ دے کر فراڈ کرتی ہے۔ ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ اس پلیٹ فارم پر دی جانے والی کوئی بھی ذاتی معلومات، دستاویزات یا ادائیگیاں غلط استعمال ہوسکتی ہیں۔
نادرا نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ صرف آفیشل پلیٹ فارمز استعمال کریں اور کسی بھی مشتبہ ویب سائٹ یا ایجنٹ کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جعلی ویب سائٹ نادرا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جعلی ویب سائٹ جعلی ویب سائٹ نے شہریوں کے لیے
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔