وفاقی حکومت نے سونے کی درآمد و برآمد پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارتِ تجارت نے اس حوالے سے ہدایات جاری کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر سونے کی تجارت سے متعلق معطل شدہ ایس آر او کو بحال کر دیا ہے۔ حکومت نے قیمتی دھات اور زیورات کی درآمد و برآمد کے فریم ورک میں بھی اہم ترامیم کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ملکی تاریخ میں سونے کی قیمتوں میں تیسری بڑی کمی، فی تولہ کتنا سستا ہوا؟

یاد رہے کہ سونے کی تجارت پر پابندی مئی 2025 میں اس وقت عائد کی گئی تھی جب ملک میں سونے کی اسمگلنگ کی شکایات سامنے آئی تھیں۔ وزارتِ تجارت نے 6 مئی کو 60 دن کے لیے متعلقہ ایس آر او معطل کیا تھا، تاہم کئی ماہ تک کوئی نمایاں کیس رپورٹ نہ ہونے کے باعث کابینہ نے سونے کی درآمد و برآمد دونوں پر پابندی ختم کرنے کی منظوری دے دی۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق جون اور جولائی 2025 میں سونے کی درآمد صفر رہی، جبکہ مئی میں صرف 9 کلوگرام سونا جس کی مالیت 9 لاکھ 27 ہزار ڈالر تھی درآمد ہوا، جو زیادہ تر وہی مال تھا جو ایس آر او معطلی سے قبل بھیجا گیا تھا۔

اس کے برعکس، جولائی 2024 میں سونے کی درآمد 22 لاکھ ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت مستحکم

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے صدر، عاطف اکرام شیخ نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ایس آر او 760 کی فوری بحالی کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد ایکسپورٹرز پہلے ہی قانونی معاہدوں کے تحت سونا حاصل کر کے اسے زیورات کی شکل میں ڈھال چکے تھے، مگر ایس آر او کی اچانک معطلی سے سپلائی چین متاثر ہوئی اور بین الاقوامی خریداروں کے اعتماد کو نقصان پہنچا۔

تاجر برادری نے حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، اور توقع ظاہر کی ہے کہ اس سے زیورات کی برآمدات اور قیمتی دھاتوں کی قانونی تجارت کو ایک بار پھر تقویت ملے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امپورٹ ایکسپورٹ پابندی سونا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امپورٹ ایکسپورٹ پابندی کی درآمد و برآمد سونے کی درآمد میں سونے کی ایس آر او

پڑھیں:

سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری

بابر شہزاد ترک :اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری نظم و ضبط سے متعلق نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت کر دی ۔
 سرکلر کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے اوقاتِ کار پر عمل درآمد لازم ہوگا۔
 سرکلرکے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نےبائیومیٹرک حاضری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ افسران و اہلکاروں کو لاؤنج سوٹ یا شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلرکے مطابق دفتری راہداریوں میں شور اور بلند آواز میں گفتگو سے گریز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے احکامات پر عملدرآمد کیلئے باضابطہ سرکلر جاری کر دیاہے۔
 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ