وفاقی حکومت نے سونے کی درآمد اور برآمد پر عائد پابندی ختم کردی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
وفاقی حکومت کی جانب سے سونے کی درآمد اور برآمد پر عائد پابندی کے خاتمے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
وفاقی کابینہ کی جانب سے منظوری کے بعد وزارتِ تجارت نے آرڈر جاری کیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سونے کی عالمی تجارت سے متعلق معطل شدہ ایس آر او بحال کر دیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے قیمتی دھاتوں و زیورات کی درآمد و برآمد سے متعلق کچھ ترامیم بھی کی ہیں جبکہ قیمتی دھاتوں اور زیورات کی درآمد اور برآمد کا فریم ورک برقرار رہے گا۔
فریم ورک شفافیت اورخود کار نظام میں بہتری کے ساتھ جاری رہے گا۔
واضح رہے کہ رواں سال مئی میں سونے کی ایکسپورٹ اور امپورٹ پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
وزارتِ تجارت نے 6 مئی 2025ء کو سونےکی تجارت منظم کرنے والا ایس آر او 60 روز کے لیے معطل کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق سونے کی اسمگلنگ کی شکایت پر ایکسپورٹ اور امپورٹ پر پابندی لگائی گئی تھی، حالیہ مہینوں میں سونے کی اسمگلنگ کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا