حسن اسکوائر پر پولیس اہلکاروں کی صحافی آیت اللہ طاہر کو گالیاںو دھمکیاں
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) حسن اسکوائر کے قریب پولیس اہلکاروں کی جانب سے رات گئے سناٹے میں کھڑے ہو کر عوام کو روک کر حراساں کرنے کے واقعات عام ہونے لگے۔ رات گئے ساڑھے 3 بجے مقامی اخبارکے سب ایڈیٹر آیت اللہ طاہر کو جب وہ اپنے دفتر سے چھٹی کرکے بائیکیا پر واپس اپنے گھر جارہے تھے کہ حسن اسکوائر پل کے نیچے سے یو ٹرن لیتے ہی اندھیرے میں کھڑے پولیس اہلکاروں نے روک کر تلاشی لی اور گریبان سے گھسیٹ کر موبائل میں بٹھا دیا، گالیاں اور دھمکیاں دیتے رہے جب کہ پولیس اہلکار موٹر بائیک کے تمام کاغذات دکھانے اور تمام شناخت کرانے کے باوجود تھانے لے جاکر ڈھنڈوں سے مارنے کی دھمکیاں اور دیگر طریقے سے حراساں کرتے رہے،پولیس اہلکاروں نے ایک گھنٹے کے بعد بلا وجہ معافی مانگ کر جانے کا کہا ’’ معافی مانگ لو اور چلے جائو‘‘۔ مقامی اخبار کے سب ایڈیٹر نے آئی جی ، ڈی آئی جی ، ایس ایچ اواور دیگر تمام متعلقہ افسران سے ایکشن لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرا روزانہ کا اسی روٹ سے آنا جانا ہے لہٰذا مجھے تحفظ فراہم کیا جائے۔قبل ازیں اسی مقام پر2 سے 3 مرتبہ چنگ چی سے اتار کر بھی تلاشی لینے اور بدتمیزی کرنے کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پولیس اہلکاروں
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :