data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نوابشاہ(نمائندہ جسارت) والدین ایکشن کمیٹی نے سندھ حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا کی طرز پر محکمہ تعلیم سندھ سرکاری اسکولوں میں بچوں کے لیے مخصوص رنگ کے سوئٹر کی لازمی شرط ختم کر ے سندھ حکومت اور اس پر عملدرآمد کروا کر سندھ کی سہولت فراہم کرے تاکہ حسب استطاعت کے مطابق کسی بھی رنگ اور ڈیزائن کا سوئٹر اور دستانے پہن سکتے ہیں۔ اس فیصلے کو والدین، اساتذہ اور سماجی حلقوں کی جانب سے کے پی کے کی حکومت کو وسیع پذیرائی ملی ہے، کیونکہ معاشی حالات کے پیش نظر بڑی تعداد میں والدین مہنگے میچنگ یونیفارم خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ محکمہ تعلیم نے یہ اعتراف کیا کہ بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے والی ہر رکاوٹ کو ختم کرنا ضروری ہے اور یونیفارم کی مہنگی پابندیاں والدین کے لیے مستقل مسئلہ بنی ہوئی تھیں۔خیبر پختونخوا کے فیصلے کے بعد سندھ کے مختلف شہروں، خصوصاً نوابشاہ میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ صوبائی حکومت بھی اسی نوعیت کا حکم جاری کرے۔ نجی اسکولوں کی ’’والدین ایکشن کمیٹی‘‘ نے کہا ہے کہ سردی کی شدت کے پیش نظر بچوں کو کسی بھی قسم کا گرم سوئٹر پہننے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مخصوص برانڈ یا رنگ کے مہنگے سوئٹر کی پابندی نے والدین کی مشکلات بڑھا دی ہیں، جبکہ عام بازار میں دستیاب گرم کپڑے نہ صرف سستے ہیں بلکہ ہر طبقے کے لیے قابلِ رسائی بھی ہیں۔ کمیٹی کا مؤقف ہے کہ نجی اسکولوں کو پابند کیا جائے کہ وہ ایسی ہدایات جاری نہ کریں جو والدین پر غیر ضروری معاشی دباؤ ڈالیں۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگے اور مخصوص سوئٹر لازمی قرار دینا طلبہ اور والدین کے بنیادی حقوق سے متصادم ہو سکتا ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 25-A ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ ہر بچے کو مفت اور معیاری تعلیم فراہم کرے، مگر اگر مالی دباؤ کے باعث بچے اسکول آنے سے قاصر ہوں، تو یہ عمل بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ مزید یہ کہ صارفین کے حقوق سے متعلق قوانین اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ کوئی ادارہ والدین کو مخصوص دکانوں یا مہنگے برانڈز سے خریداری پر مجبور کرے، کیونکہ یہ غیر منصفانہ تجارتی عمل سمجھا جاتا ہے۔سماجی تنظیموں نے بھی اس معاملے پر آواز اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ شدید سردی میں بچوں کو صرف رنگ یا یونیفارم کے نام پر مناسب گرم کپڑے پہننے سے روکنا ان کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ بچوں کی فلاح اور تحفظ ہمیشہ اولین ترجیح ہونی چاہیے، اور اسکول انتظامیہ کا فرض ہے کہ وہ موسم کے حالات کے مطابق لچک دے۔ اسی لیے کراچی، حیدرآباد، سکھر، نوابشاہ اور اندرونِ سندھ کے والدین مشترکہ طور پر حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا کی طرز پر فوری نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔والدین، معلمین اور نجی اسکولوں کی نمائندہ تنظیمیں سندھ حکومت سے اپیل کر رہی ہیں کہ وہ فوری طور پر ہدایات جاری کرے کہ تمام سرکاری و نجی اسکول بچوں کو اپنی استطاعت کے مطابق گرم کپڑے پہننے کی مکمل اجازت دیں اور مہنگے میچنگ سوئٹر کی پابندی ختم کی جائے۔ اس سے نہ صرف والدین کا معاشی بوجھ کم ہوگا بلکہ بچے سردی سے محفوظ رہتے ہوئے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں گے۔

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بچوں کو کے لیے

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم