کراچی چڑیا گھر میں خوشخبری، شیرنی کے ہاں تین صحت مند بچوں کی پیدائش
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیرِ انتظام کراچی چڑیا گھر میں 16 نومبر 2025 کو ایک خوشگوار پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں شیرنی نے تین صحت مند بچوں کو جنم دیا، اس نایاب اور اہم واقعے نے نہ صرف چڑیا گھر کے عملے کو خوشی سے بھر دیا بلکہ شہر بھر کے شہریوں اور جنگلی حیات کے شائقین نے بھی اسے خوش آئند قرار دیا۔
چڑیا گھر کے مطابق پیدائش کے فوراً بعد ویٹرنری ماہرین نے شیر کے بچوں کا مکمل طبی معائنہ کیا، ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تینوں بچے صحت مند، توانا اور حرکت میں فعال ہیں جبکہ مادہ شیرنی بھی مکمل طور پر ٹھیک ہے اور اس کی خصوصی دیکھ بھال جاری ہے۔
چڑیا گھر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نومولود بچوں کے لیے خصوصی نگرانی، اضافی حفاظتی اقدامات اور غذائیت کے اعلیٰ انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ ان کی ابتدائی پرورش بہترین ماحول میں ہو سکے۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے اس موقع پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے کراچی چڑیا گھر کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ شیرنی اور بچوں کی دیکھ بھال میں کسی قسم کی غفلت نہ برتی جائے اور تمام طبی و حفاظتی تقاضوں کو ترجیح دی جائے، یہ واقعہ کراچی چڑیا گھر میں گزشتہ برس کیے گئے انتظامی اقدامات کے مثبت نتائج کی واضح مثال ہے۔
کے ایم سی حکام کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران جانوروں کے باڑوں کی اپ گریڈیشن، ویٹرنری سہولیات میں بہتری، غذائی منصوبہ بندی اور ماحول دوست انتظامات نے چڑیا گھر کے معیار میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس کا اظہار اب جانوروں کی صحت اور افزائش کے مثبت نتائج سے ہو رہا ہے۔
انتظامیہ نے واضح کیا کہ فی الحال شیر کے بچوں کو عوام کے سامنے پیش نہیں کیا جائے گا تاکہ انہیں غیر ضروری دباؤ یا شور سے محفوظ رکھا جا سکے۔ ویٹرنری ٹیم کی اجازت کے بعد انہیں بتدریج عوام کے لیے نمائش میں شامل کیا جائے گا۔
بلدیہ عظمیٰ کراچی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ چڑیا گھر کی اپ گریڈیشن، جنگلی حیات کے تحفظ اور جانوروں کی جدید خطوط پر دیکھ بھال کے لیے اقدامات مزید تیز کیے جائیں گے، تاکہ کراچی چڑیا گھر تفریح کے ساتھ ساتھ تعلیمی اور تحقیقی مرکز کے طور پر بھی اپنی بہترین خدمات جاری رکھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کراچی چڑیا گھر
پڑھیں:
بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنبیہ کی ہے کہ عمران خان سے ملاقات ہونے تک صوبے کا بجٹ منظور نہ ہونے دیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلی سہیل آفریدی نے علیمہ خان کے ساتھ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کی۔ اس دوران سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنے کی بات کی تو علیمہ خان نے انہیں ٹوک دیا۔
علیمہ خان نے سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس کرنے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ بجٹ پاس کیوں کر رہے ہیں؟ ان سے کہیں پہلے میری بانی سے ملاقات کروائیں‘۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پچھلے سال بھی کہا تھا میرے ساتھ بجٹ پر بات کرو ، آپ آج بھی ان سے کہیں بجٹ سے پہلے بانی سے ملاقات کرائیں ۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سارے لوگ ظلم کیخلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو تنہا کیا گیا جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، ہمارا یہاں آنے کا ایک ہی مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشل منتقل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بانی کا علاج انکی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو، ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لئے یہ ملنے نہیں دے رہے۔ عید سے پہلے انہون نے ہمیں گیارہ گھنٹے تک روک کر عوام کو مصیبت میں ڈالا گیا
اُن کا کہنا تھا کہ مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو فیملی کو کم از کم ملنے دیا جائے، پاکستان تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کا نام ہے، بانی نے جیل سے فیصلہ کیا کہ فلاں وزیر اعلیٰ نہیں ہو گا، بانی کے فیصلے کے بعد کوئی بھی طاقت اس کو نہیں بچا سکتی تھی۔
مزید پڑھیںاڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط نہ ہو سکے
علیمہ خان نے سابق آرمی چیف کی عمران خان سے ملاقات کی خبر کو بے بنیاد قرار دیدیا
انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ ہو گا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو تبدیل نہیں کرسکتی، اڈیالہ جیل سے جب تک بانی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیر اعلیٰ رہوں گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کے پی کی حکومت فقط بانی پی ٹی ہی ختم کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ کام کوئی نہیں کرسکتا، صوبے میں فارورڈ بلاک پروپیگینڈا ہے اور یہ اس لئے کیا گیا وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی و بیرونی قرضے 97 ارب تک پہنچ چکے، حکومت ٹیکس کے اہداف پورے نہیں کر سکی اور آج حکومت میں شامل پارٹیاں عوام کا نہیں سوچ رہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، میری تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ بانی کے علاج کیساتھ اس بجٹ پر فوکس رکھیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کے پی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کر دیا ہے اور ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، اس سال بھی عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے گا۔ ہمارا سارا فوکس صحت تعلیم زراعت نوجوان اور جنگلات پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لا رہے ہیں، وفاقی بجٹ کا اثر سارے صوبوں بشمول گلگت بلتستان پر پڑے گا۔