رومانیہ نے مشکوک ڈرون کی اطلاع پر لڑاکا طیارے روانہ کردیے
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بخاریسٹ (انٹرنیشنل ڈیسک) رومانیہ نے اپنی فضائی حدود میں ڈرونز کی دراندازی کے بعد فوری ردِعمل دیتے ہوئے لڑاکا طیارے روانہ کردیے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق وزارتِ دفاع نے جاری بیان میں کہا کہ ابتدائی طور پر جرمن فضائی نگرانی مشن کے تحت تعینات 2یورو فائٹر طیاروں کو روانہ کیا گیا جنہوں نے جنوب مشرقی کاؤنٹی تْلسیا میں ایک ڈرون کا سراغ لگایا، جو بعد میں واپس یوکرین کی جانب مڑ گیا۔بعدمیں ریڈار پر دوسری خلاف ورزی ظاہر ہونے پر رومانیہ کی فوج نے 2ایف 16 لڑاکا طیارے بھی روانہ کیے۔ وزارت کے مطابق یہ ڈرون گالاتسی کاؤنٹی سے اندرونی علاقے ورانچا کی سمت بڑھ رہا تھا۔ حکام نے تینوں متاثرہ کاؤنٹیوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر محفوظ مقام پر پناہ لینے کی ہدایت کی۔یاد رہے کہ یورپی یونین اور ناٹو رکن رومانیہ کی یوکرین کے ساتھ 650 کلومیٹر طویل زمینی سرحد ہے، اور روس کی جانب سے دریائے ڈینیوب کے پار یوکرینی بندرگاہوں پر حملوں کے بعد سے اس کی فضائی حدود میں متعدد بار ڈرونز کی دراندازی اور ملبہ گرنے کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ رواں ماہ میں یورپ کے مشرقی سرحدی علاقوں میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جہاں متعدد ناٹو ممالک کی فضائی حدود میں مبینہ روسی ڈرونز کی خلاف ورزی کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ رومانیہ نے امن کے دوران بھی ڈرون مار گرانے کی اجازت دینے والا قانون نافذ کر رکھا ہے، تاہم ابھی تک اس اختیار کا استعمال نہیں کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔