Jasarat News:
2026-06-03@03:21:48 GMT

ولیکا اسپتال انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت پر بخت زمین کی مذمت

اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سائٹ لیبرفورم کے جنرل سیکرٹری بخت زمین خان نے کہا ہے کہ قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید کی پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اور مزدور رہنما شہید عثمان غنی کے بیٹے سعید غنی صوبائی وزیر محنت کے ہوتے ہوئے سندھ سوشل سیکورٹی اسپتال مزدوروں کے بچوں کے لیے مقتل گاہ بن گیا۔ ولیکا سوشل سیکورٹی اسپتال میں ڈاکٹروں اور انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کے باعث معصوم بچوں میں ایڈز کی بیماری پھیل گئی جس سے کافی بچے متاثر ہوئے۔ سائٹ لیبرفورم کے جنرل سیکرٹری بخت زمین خان نے سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سانحہ ادارے کی نااہلی، کرپشن اور غیر انسانی رویے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اسپتال مزدوروں کے علاج کے بجائے ان کی مقتل گاہ بن چکا ہے۔ مزدوروں کے خون پسینے کی کمائی سے چلنے والا یہ ادارہ غریبوں کے علاج پر خرچ ہونے کے بجائے بیوروکریسی اور افسر شاہی کی عیاشیوں کی نذر ہو رہا ہے۔ آئے روز مریضوں کے ساتھ ان کی غفلتوں کے وجہ سے حادثات ہوتے رہتے ہیں ۔

ان معصوم بچوں کی جانوں سے کھیلنے والے مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کو کسی صورت معاف نہیں کیا جا سکتا۔ یہ صرف ان بچوں تک محدود نہیں بلکہ ان کے خاندانوں کی تباہی ہے اور تمام مزدور طبقے کے اعتماد، امید اور حقوق کا قتل ہے۔

اس واقعے کی FIR کمشنر سوشل سیکورٹی، اسپتال انتظامیہ اور ایم ایس کے خلاف فوری درج کی جائے۔

غفلت کے ذمے دار ڈاکٹروں اور عملے کو فوری طور پر معطل و گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔

متاثرہ بچوں کے خاندان کو کم از کم پانچ کروڑ روپے بطور ہرجانہ ادا کیا جائے۔اور ان بچوں کا مکمل علاج کیا جائے اوراس سانحے کی مکمل جوڈیشل انکوائری کروائی جائے تاکہ آئندہ مزدوروں کے ساتھ اس طرح کے مظالم دوبارہ نہ ہوں۔

بیان میں کہا گیا کہ مزدوروں کے فنڈز سے چلنے والا سوشل سیکورٹی ادارہ آج مزدور دشمن بیوروکریسی کے شکنجے میں ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت مزدوروں کے حقوق اور زندگی کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے اور گورینگ باڈی میں صنعتی ورکرز کے حقیقی نمائندوں کو شامل کریں اور سوشل سیکورٹی اسپتالوں میں ادویات کی قلت کو ختم کردیا جائے اور تمام ادویات پر سوشل سیکورٹی کی اسٹیمپ لازمی قرار دی جائے۔تاکہ تمام جعلی ادویات کا خاتمہ ہو۔ جس کی وجہ سے علاج کے لیے آنے والے مریضوں کو خطرناک بیماریاں نہ لگیں بلکہ بیماری سے شفاء ملے۔ تمام رجسٹرڈ ورکرز کو مزدور کارڈ جاری کیا جائے۔ جو اس لیے جاری نہیں کیے جارہے ہیں کہ اگر سسٹم کمپیوٹرائز ہوگیا تو کرپشن کرنے میں دشواری پیش آئے گی اور اس لیے نظام کو کمپیوٹر ائز نہیں ہونے دیا جارہا ہے ۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر اس غفلت کے ذمے داروں کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی تو مزدور برادری احتجاج پر مجبور ہوگی۔

ویب ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سوشل سیکورٹی مزدوروں کے سیکورٹی ا غفلت کے

پڑھیں:

تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائل

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔

صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟