بلوچستان میں کوئلے کے کان کنوں کا معاشی استحصال: ایک تحقیقی جائزہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اگر ان یونینز کو مضبوط ادارہ جاتی حمایت ملے اور حکومت ان کے ساتھ مشاورت کا باضابطہ نظام قائم کرے تو بلوچستان کے کان کنوں کے حالات میں حقیقی بہتری ممکن ہے۔
-7 تکنیکی صورتحال:
بلوچستان میں کوئلے کی کانیں اب بھی پرانے برطانوی دور کے سرنگی نظام پر چل رہی ہیں۔ پہاڑ کو دو حصوں میں بانٹ کر جدید طریقوں سے کھدائی کے بجائے زمین کے اندر باریک سرنگیں کھودی جاتی ہیں، جو سستی مگر خطرناک ہوتی ہیں۔ ان سرنگوں میں وینٹی لیشن ناقص ہوتی ہے، جس سے زہریلی گیس جمع ہو جاتی ہے۔
جدید مشینری کی کمی، ناقص بجلی کی فراہمی، اور انسانی محنت پر انحصار نے کان کنی کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ مزدور صرف دستی اوزاروں سے کام کرتے ہیں اور مشینری کے استعمال کی تربیت بھی نہیں رکھتے۔ نتیجتاً، حادثات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
کئی ٹھیکیدار جدید مشینری خریدنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ اس سے لاگت بڑھتی ہے۔ ان کے نزدیک مزدوروں کی زندگی کم قیمت سرمایہ ہے۔ حکومتی سبسڈی یا ٹیکنالوجیکل اصلاحات نہ ہونے کے سبب نجی کانیں اپنی مرضی سے کام کرتی ہیں۔
اگر بلوچستان میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے، مائن سیفٹی ایکٹ پر عمل درآمد کیا جائے، اور تربیتی پروگرام شروع ہوں تو نہ صرف حادثات کم ہوں گے بلکہ پیداوار میں اضافہ بھی ممکن ہوگا۔
-8 نتائج اور سفارشات:
اس تحقیق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بلوچستان کے کوئلہ کان کنوں کا معاشی استحصال ایک ہمہ جہتی مسئلہ ہے جس میں ریاستی غفلت، سرمایہ دارانہ نظام، اور تکنیکی پسماندگی تین بڑے عوامل ہیں۔ مزدوروں کی اجرت غیر منصفانہ، ان کی زندگیاں غیر محفوظ، اور ان کے حقوق غیر یقینی ہیں۔
ریاست کو چاہیے کہ وہ بلوچستان مائنز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ کو فعال بنائے، حفاظتی قوانین پر سختی سے عمل کرائے، اور ہر کان میں لائسنس کی تجدید سے قبل حفاظتی معیار کی تصدیق کرے۔
نجی ٹھیکیداری نظام کو شفاف بنایا جائے اور مائن ورکرز کے لیے اجتماعی معاہدہ (Collective Bargaining Agreement)لازم قرار دیا جائے۔ حادثات کی صورت میں فوری ریسکیو یونٹس، انشورنس کوریج اور مالی معاوضہ یقینی بنایا جائے۔
اگر حکومت انسانی سرمائے کو اپنی پالیسی کا مرکز بنائے اور مزدوروں کے حقوق کو ترجیح دے تو بلوچستان کی کان کنی نہ صرف محفوظ ہو سکتی ہے بلکہ ملکی معیشت میں ایک پائیدار کردار ادا کر سکتی ہے۔
-9 حوالہ جات:
1.
2. Pakistan Bureau of Statistics. Labour Force Survey (2022–2023).
3. Dawn News. “Coal Mine Disasters in Balochistan.” (2024).
4. BBC Urdu. “Mach Tragedy: Eleven Hazara Miners Killed.” (2021).
5. Human Rights Watch. Balochistan Miners’ Safety and Exploitation Report. (2022).
(ختم شد)
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔