data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251124-03-4
افسوس… صد افسوس کراچی والوں کی قسمت میں صرف رونا ہی لکھا ہے کبھی پانی کی بندش کا رونا، کبھی بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کا رونا، کبھی کھلے مین ہول کا رونا، کبھی موہن جو دڑو کے دور کی یاد دلاتی سڑکوں کا رونا، کبھی جگہ جگہ منہ چڑاتے کچرا کنڈیوں کا رونا، کبھی اسٹریٹ کرائم کی نذر ہو جانے والے مال و متاع کا رونا، کبھی ڈمپر اور ٹینکر مافیا کی سرکشی کا رونا جنہوں نے اب تک نہ جانے کتنی زندگیوں کے چراغ گل کر دیے، کبھی ٹریفک جام میں پھنس کر سفر کی صعوبتوں کا رونا، کبھی ای چالان کی مد میں بھاری جرمانوں کا رونا، اور کبھی بھتا خوروں کے زیر عتاب ہونے کا رونا۔ غرض اب تو حال یہ ہو گیا ہے کہ رو رو کر گھبرا جاتے ہیں اور ارد گرد کے حالات پر جب نظر ڈالتے ہیں تو گھبرا کر پھر رونا شروع کر دیتے ہیں۔
کراچی کے باسیوں نے تو وہ دور بھی دیکھا ہے جب بھتا خور علی الاعلان بھتے کی پرچیاں لوگوں کو بھیجا کرتے تھے اور نہ دینے کی صورت میں سرعام انہیں سزا دی جاتی تھی حتیٰ کہ قربانی کے جانوروں کی کھالوں کی وصولی کے لیے بھی پرچیاں دی جاتی تھیں اور مطالبہ نہ ماننے کی صورت میں جانور ہی کو گولی مار دی جاتی تھی۔ سیاسی منافرت اس قدر زیادہ تھی کہ ’’ہر طرح کے اختلاف کا حل صرف ایک گولی‘‘ (پینا ڈول مت سمجھیے گا) میں پنہاں تھا ہر طرف خوف و دہشت کی فضا ہوا کرتی تھی اسکول کالج اور دفتر جانے والے لوگ جب تک گھر نہیں پہنچ جاتے گھر والوں کی روح اٹکی رہتی تھی کیونکہ کب حالات خراب ہو جائیں اور کس کے ساتھ کیا حادثہ پیش آ جائے کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا۔ اس زمانے میں کراچی کے بوڑھے باپوں کے کاندھوں نے اپنی جوان اولادوں کی میتوں کا بوجھ کس طرح اٹھایا یہ ہر درد مند دل رکھنے والا باشعور انسان سمجھ سکتا ہے۔ اللہ اللہ کر کے وہ دور دہشت رخصت ہوا تو اہل کراچی نے سکون کا سانس لیا مگر پھر ان کی جگہ دن دہاڑے اسلحے کے زور پر موبائل اور قیمتی چیزیں چھیننے والوں نے لوگوں سے جینے کا حق بھی چھین لیا۔ بہت معذرت کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری حفاظت پہ مامور محکمے کے اندر ہی کچھ ایسی کالی بھیڑیں ہوتی ہیں جن کی سرپرستی میں جرائم پنپتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک شوروم کے مالک کو بھتا نہ دینے پر گولی مار دینے کی خبر نے پرانی یادوں پر پڑی ہوئی گرد اڑا ڈالی اور ذہن خوفزدہ ہو کر بے اختیار ماضی کی بھول بھلیوں میں گم ہوگیا۔ انگریزی کا مقولہ ہے History repeats itself.
خدا سے دعا ہے کہ کراچی کی وہ تاریخ جو دہشت اور خوف کی علامت تھی پھر کبھی نہ دہرائی جائے بلکہ یہاں رہنے والے تمام افراد قومیتوں مسلکوں اور سیاسی اختلافات، سے ماورا ہو کر صرف اور صرف کراچی کی تعمیر و ترقی کے لیے کوشاں رہیں کیونکہ کراچی سب کا ہے۔
بر سبیل تذکرہ آج کل ای چالان کا ہر طرف شور ہے اور جرمانے کی رقم… اللہ کی پناہ یہ جرمانے ہیں یا پھر معذرت کے ساتھ ’’بھتے کی پرچیاں‘‘ لیکن کراچی والے اس کو بھی قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیں گے بھئی ظاہر ہے ان کی قسمت میں ’’رونا‘‘ جو لکھا ہے ویسے برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے ہر حادثہ، ہر سانحہ ہر ظلم و ستم نصیب کے کھاتے میں نہیں ڈالا جانا چاہیے کیونکہ
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا رونا
پڑھیں:
کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
شہر قائد کے علاقے مواچھ گوٹھ میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق مواچھ گوٹھ کے نور شاہ محلے میں 7 سالہ بچہ کھلے مین ہول میں گرکر جاں بحق ہوا جس کی شناخت جہانگیر کے نام سے کی گئی۔
ایس ایچ او موچکو واقعے کی تصدیق کی اور بتایا کہ بچہ گھر کے قریب کھیلتے ہوئے کھلے مین ہول میں گرا۔
کھلے مین ہول میں گرکر بچے کی ہلاکت پر اہل خانہ شدت غم سے نڈھال ہوگئے اور واقعے کے بعد علاقہ مکینوں میں شدید اشتعال پھیل گیا۔
مواچھ گوٹھ میں کھلے مین ہول میں گرنے سے بچے کی ہلاکت کے بعد علاقہ مکینوں نے بچے کی میت رکھ کر احتجاج کیا اور حب ریور روڈ و ناردرن بائی پاس پر ٹریفک کو بند کردیا۔