دنیا میں اللہ کی حاکمیت چاہتے ہیں‘ کسی قاتل کو نوبل انعام کیلیے نامزد نہ کیا جائے‘ سراج الحق
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (صباح نیوز) سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا کہ امریکا کے باغیوں کی پوری دنیا کی قیادت ایک نئی صبح کی تلاش میں یہاں جمع ہے ہم ایک ایسی دنیا چاہتے ہیں جہاں نیکی کرنا آسان اور برائی کرنا مشکل ہو، جس میں کشمیر اور فلسطین کو آزادی نصیب ہوگی اور ہم اپنی بہن ڈاکٹر عافیہ کو وطن لانے میں کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسی عدالت چاہتے ہیں جہاں عام آدمی کو انصاف ملے۔ ہم ایسی ریاست چاہتے ہیں جہاں غریبوں کو مفت علاج اور تعلیم کی سہولت ملے۔اجتماع عام کے دوسرے روز ’’جہان نو ہورہا ہے پیدا‘‘کے عنوان سے آخری سیشن میں 45ممالک سے آئے ہوئے 120مندوبین نے شرکت کی۔سیشن سے اخوان المسلمون کی نمائندے بزرگ رہنما شیخ حمام سعید،رہنما حکمران جماعت ملائشیا سے ڈاکٹر مازلی ملک، مراکش سے سربراہ تحریک التوحیدوالااحسان سید ڈاکٹر اوس رمال،برطانیہ سے نومسلم خاتون سماجی رہنما نورین بوتھ، ترکیی سے سعادت پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاتح اربکان،مرکزی رہنماحماس خلیل الحیہ،برازیل سے تھیاگوایویلا رہنما صمود فلوٹیلا،عراق سے ابواوس اخوان المسلمون کے شیخ اسماعیل،نیلسن منڈیلا کی ساتھی ڈاکٹر فرینک چکا، جنوبی افریقا سے اسلامک لبریشن فرنٹ فلپائن رہنما مورو اسماعیل ابراہیم، نائب امیر جماعت اسلامی بنگلا دیش پروفیسر مجیب الرحمن، بوسنیا سے علیجاہ عزت بیگوچ پارٹی پروفیسر یحیٰ، رہنماآل پارٹیزحر یت صدر تحریک کانفرنس کے نمائندے پروفیسر غلام محمد صفی،تیونس سے رہنما تحریک النہضہ ڈاکٹر علی بن عرفہ،قائد علماء فلسطین شیخ مروان، برہان کایا بیکن،رکن ترک پارلیمنٹ نمائندہ صدر اردگان ڈاکٹرانس تکریتی، صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان ڈاکٹر حفیظ الرحمن ودیگر نے خطاب کیا۔اس موقع پر شیخ علی محی الدین قرعہ داغی نے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کو یادگاری شیلڈ پیش کی جبکہ ڈائریکٹر امور خارجہ ڈاکٹر آصف لقمان قاضی نے نطامت کے فرائض انجام دیے۔سابق امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے اجتماع عام کے دوسرے روز ’’جہان نو ہورہا ہے پیدا‘‘کے عنوان سے آخری سیشن سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حافظ نعیم الرحمن کی ٹیم کو خراج تحسین اور شاباشی دیتا ہوں جنہوں نے نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر علامہ اقبال کے خواب کے مطابق امت کے رہنماؤں کو جمع کیا۔اجتماع میں امریکا اور اس کے حواریوں کے باغی جمع ہیں اور امت مسلمہ کو جوڑرہے ہیں،ہم ایک ایسی دنیا چاہتے ہیں جس میں حاکمیت صرف اور صرف اللہ کی اور نظام اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے احکامات کے مطابق ہو۔ہم ایسا نظام چاہتے ہیں جس میں قاتل کو نوبل پرائز کے انعام کے لیے نامزد نہ کیا جائے ملک میں ایسا نظام چاہتے ہیں جس میں طبقاتی نظام رائج نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور افغان کے لوگوں نے قربانیاں دے کر شہنشائیت کا دور ختم کیا۔پاکستان میں بھی وہ دن ضرور آئے گا جب جاگیرداروں، وڈیروں اور خانوں کی اجارہ داری ختم ہوگی۔اجتماع عام میں دنیا بھر میں مختلف ممالک کی اسلامی تحریکوں کے سربراہان نے شرکت کی جن میں صدر الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین قطرشیخ علی محی الدین قرہ داغی،مرکزی رہنما، حماس خلیل الحیہ،قائد علماء فلسطین شیخ مروان،رہنما، کشمیر سے آل پارٹیز حریت صدر تحریک کانفرنس کے نمائندے پروفیسر غلام محمد صفی،اردن سے بزرگ رہنما، مصر سے نائب مرشد عام، اخوان المسلمون ڈاکٹر حلمی الجزار،ترکی سے سربراہ، سعادت پارٹی ڈاکٹر فاتح اربکان،ترکی سے پارلیمنٹرین، جماعتِ صدر اردوان برہان کایاتْرک،نائب، رفاہ پارٹی ڈاکٹر دوآن بیکن،الجزائر سے نائب صدر، حرکتہ مجتمع السلم ڈاکٹر ناصر حمدادوش،سوڈان سے سربراہ، اخوان المسلمون شیخ عادل علی اللہ،سینیگال سے نائب صدر، تحریک عباد الرحمن مبنگے تلہ،صومالیہ سے شیخ احمدرہنماشیخ محمد،بوسنیا سے نمائندہ، علی عزت بیگووچ کی جماعت پروفیسر یحییٰ،مقدونیہ سے سعید رمضانی،مونٹی نیگرو سے امام جماعت امام ڈزتیمو،فلپائن سے رہنما، مورواسلامک لبریشن فرنٹ اسماعیل ابراہیم،ملائیشیا سے ڈائریکٹر امور خارجہ، حزب اسلامی ڈاکٹر خلیل عبدالہادی،ملائیشیا سے وزیر، صوبہ کلانتان حاجمہ ممتاز،انڈونیشیا سے رہنما، جسٹس پارٹی جزولی جوینی،برطانیہ سے ڈاکٹر انس التکریتی،فلسطین سے پروفیسر ڈاکٹر سامی العریان،دانشور،سربراہ، رفاہی ادارہ منیر سعید،امریکا سے کشمیری رہنماڈاکٹر غلام نبی فائی،برطانیہ سے کشمیری رہنمامزمل ایوب ٹھاکر،چین سے ڈاکٹر وکٹر گاؤ دانشور،امریکا سے پروفیسر، جارج واشنگٹن یونیورسٹیپروفیسر جان اسپیٹو،امریکا سے سماجی کارکنشان کنگ،بوسنیا سے دانشورپروفیسر یحییٰ ملاحاصلووچ،ملائیشیا سے سربراہ، تحریک اکرام بدلی شاہ،مصر سے ڈاکٹر محی الدین الزایط،برطانیہ سے سابق صدر، یو کے اسلامک مشنڈاکٹر زاہد پرویز،امریکا سے سابق صدر، اسلامک سرکل آف نارتھ امریکاڈاکٹر محمد یونس،ترکی سے اسپیکر، قومی اسمبلی نعمان قرطلمش شامل تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اخوان المسلمون برطانیہ سے چاہتے ہیں سے سربراہ امریکا سے سے ڈاکٹر
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔