data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251124-03-7

دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی جانب سے 16 نومبر 1995 سے ’’عالمی یوم برداشت‘‘ دنیا بھر میں منایا جاتا ہے اصل میں جس کا مقصد ملکوں کے درمیان ثقافتی رواداری اور برداشت ہے، لیکن آج کل جو دنیا میں ہورہا ہے وہ یہ کہ اب بات ثقافت سے کہیں آگے بڑھ چکی ہے، اب تو ملکوں کو آپس میں ایک دوسرے کا وجود ہی برداشت نہیں ہورہا اور اگر ان کا بس چلے تو ایک دوسرے کو صفحۂ ہستی سے مٹادیں۔ رواں سال کے پانچویں مہینے میں پاکستان نے ایک مکروہ پڑوسی کے مذموم ارادوں کو خاک میں ملا کر اس کے دانت کھٹے کردیے۔ آج دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت برداشت کی ہے۔ قرآن مجید نے رحمت اللعالمین سیدنا محمدؐ کے بارے فرمایا: ترجمہ؛ ’’یہ اللہ کی رحمت ہی تھی کہ تم ان کے لیے نرم دل ہو گئے، اور اگر تم سخت مزاج اور تندخو ہوتے تو وہ تمہارے گرد سے بکھر جاتے‘‘۔ (آل عمران: 159) یہ آیت بتاتی ہے کہ قیادت اور قوموں کے درمیان تعلق نرمی، برداشت، اور مکالمے سے مضبوط ہوتے ہیں، نہ کہ سختی اور الزام تراشی سے۔

اب آتے ہیں پاکستان اور افغانستان کی جانب۔ آج جب ہم پاکستان اور افغانستان کے تعلقات دیکھتے ہیں، تو دونوں ملکوں کو یہی سبق اپنانا چاہیے۔ الزام تراشی اور غصہ کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ بات چیت، صبر اور تحمل ہی امن کی کنجی ہیں۔ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ: ’’اصل طاقتور وہ نہیں جو دوسروں کو گرا دے، بلکہ وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے‘‘۔ اگر دونوں ممالک برداشت اور نرمی کے ساتھ آگے بڑھیں تو دشمنی دوستی میں، اور نفرت امن میں بدل سکتی ہے۔ اسی کا نام ہے اسلامی برداشت ہے جو انسانوں کو قریب لاتی ہے، اور ملکوں کو مضبوط بناتی ہے۔

پاکستان اور افغانستان نے ماضی میں طے پائے ایک عبوری جھڑپ ختم کرنے والے معاہدے کے بعد، حالیہ مہینوں میں سرحد پر شدید جھڑپیں کی ہیں، جن میں فوجی اور عام شہری دونوں ہلاک ہوئے۔ 19 اکتوبر 2025 کو دوحا میں ثالثی کے تحت ایک عارضی ہنگامی معاہدہ ہوا جس میں فائر بندی کی کوشش کی گئی تھی۔ تاہم، مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے ہیں، جیسے کہ ترکیے (استنبول) میں ثالثی کے ساتھ بات چیت ہورہی تھی۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ امن کا دارومدار اس بات پر ہے کہ افغانستان کی حکومت ملٹری اور عسکری کارروائیوں کو اپنے کنٹرول میں لائے، خصوصاً وہ گروہ جو پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ دوسری جانب، افغانستان نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں سے تجاوز کرتی ہے اور وہ خود اپنی سرزمین محفوظ نہ ہونے کی شکایت کرتا ہے۔ حالیہ مذاکرات ناکام قرار پائے ہیں پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ بات چیت ’’ڈیڈ لاک‘‘ میں ہے، ابھی تک کوئی ٹھوس حل نہیں نکلا۔ استنبول (ترکیے) میں کابل اسلام آباد کے درمیان ثالثی مذاکرات ہوئے تھے، جن کا مقصد سرحدی جھڑپوں کو کم کرنا تھا۔ مگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے۔ مذاکرات ناکام ہونے کے باوجود، دونوں جانب سے ایک جنگ بندی کا معاہدہ پہلے طے پا چکا تھا، اور وہ ’’فی الحال‘‘ برقرار ہے۔

مجموعی طور پر، سرحدی خطے کی صورت حال بحرانی مگر قابو میں ہے: جنگ بندی برقرار ہے، بڑی جنگ جاری نہیں، مگر مذاکرات کا عمل رک گیا ہے اور کشیدگی کا امکان بدستور موجود ہے۔ 10 نومبر کو دوبارہ فتنہ الخوارج نے آرمی پبلک اسکول والا ہولناک کھیل کھیلنا چاہا جو کہ اللہ کی رضا سے آرمی نے ناکام بنادیا اور اپنے پڑوسیوں کو بتایا کہ دوبارہ کبھی یہ غلطی بھول کر بھی نہیں کرنا۔ قرآن کہتا ہے کہ ’’دشمن کے ساتھ بھی عدل کرو‘‘۔ (سورۂ المائدہ: 8) اگر پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کی بات تحمل اور نرمی سے سنیں، تو غلط فہمیاں کم ہوں گی۔ برداشت کا مطلب کمزوری نہیں بلکہ حکمت اور وقار کے ساتھ بات کرنا ہے۔

اب چلتے ہی افریقا کے رقبے کے لحاظ سے تیسرے بڑے ملک سوڈان جہاں پر 2023ء سے جاری تصادم کے دوران ملک کی فوجی قیادت Sudanese Armed Forces اور پیراملٹری گروپ Rapid Support Forces کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے۔ اس جنگ نے ہنگامی انسانی بحران کھڑا کیا ہے: تقریباً 30 ملین لوگ امداد کے محتاج ہیں، جن میں کروڑوں بچے شامل ہیں۔ قحط، خوراک کی کمی، وبائیں سب ملک کے مختلف علاقوں میں شدید حالات ہوچکے ہیں۔ 2021 میں فوج نے سول حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا، دونوں جنرل (البرہان اور حمیدتی) شروع میں ایک ساتھ تھے۔ بعد میں اختلاف اس بات پر ہوا کہ ملک کا کنٹرول کس کے پاس ہوگا یعنی اقتدار کی کرسی۔

سونے کی کانوں کا کنٹرول: سوڈان افریقا کے سب سے بڑے سونا پیدا کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ آر ایس ایف (حمیدتی گروپ) کے پاس زیادہ تر سونے کی کانیں اور ان سے حاصل ہونے والا پیسہ ہے۔ فوج (ایس اے ایف) چاہتی ہے کہ یہ دولت ریاست کے کنٹرول میں آئے، نہ کہ کسی ملیشیا کے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ کے پیچھے سونا، معیشت اور طاقت تینوں چیزیں چھپی ہیں۔ اگر ہم دیکھیں تو یہ سارا خون خرابہ عدمِ برداشت کا نتیجہ ہے دونوں فریق اقتدار اور دولت کی خاطر ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر رہے۔ اسلام اور انسانی اخلاقیات ہمیں سکھاتے ہیں کہ: ’’امن اور انصاف صرف تب قائم ہوتا ہے جب طاقتور برداشت اور انصاف سے کام لے‘‘۔ اگر دونوں گروہ برداشت، مکالمہ اور عوامی مفاد کو ترجیح دیں، تو نہ صرف سونا محفوظ رہے گا بلکہ انسانی جانیں بھی بچیں گی۔

سوڈان کی جنگ اور برداشت کا سبق: آج دنیا کے کئی ممالک میں طاقت، دولت اور سیاست کی خاطر خون بہایا جا رہا ہے۔ ظاہری طور پر یہ جنگ اقتدار کی ہے، مگر اس کے پیچھے سونے کی کانوں، دولت کے ذرائع، اور ملک کے کنٹرول کی لڑائی ہے۔ دونوں فریق چاہتے ہیں کہ وہی طاقتور رہیں، لیکن اس کی قیمت لاکھوں بے گناہ انسانوں کی جانوں سے ادا کی جا رہی ہے۔ بچے بھوکے ہیں، لوگ ہجرت پر مجبور ہیں، اور پورا ملک قحط اور بیماری کا شکار ہے۔ ایسے میں اسلام اور انسانیت ہمیں ایک ہی راستہ دکھاتے ہیں۔ برداشت کا راستہ۔ قرآن کہتا ہے: ’’اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی صلح کی طرف مائل ہو جاؤ‘‘۔ (انفال: 61) اور نبیؐ نے فرمایا: ’’طاقتور وہ نہیں جو لڑائی میں دوسرے کو گرا دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے‘‘۔ اگر سوڈان کے یہ دونوں گروہ برداشت، صبر، اور مکالمے کا راستہ اختیار کریں تو جنگ ختم ہو سکتی ہے، اور وہی دولت اور سونا جو آج تباہی لا رہا ہے، کل خوشحالی لا سکتا ہے۔ سوڈان ہمیں ایک سبق دیتا ہے کہ جب طاقت برداشت کے بغیر ہو، تو امن تباہ ہو جاتا ہے۔ لیکن جب برداشت طاقت کے ساتھ ہو، تو قومیں دوبارہ زندہ ہو جاتی ہیں۔ ’’سوڈان کی جنگ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ امن کی کنجی بندوق نہیں، بلکہ برداشت ہے‘‘۔

امیر محمد خان کلوڑ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان اور افغانستان کے درمیان برداشت کا ایک دوسرے کے ساتھ میں ایک کیا ہے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف