پراکسی وار کبھی ختم نہیں ہوئی، بھارت افغانستان کے راستے پاکستان کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی اور پراکسی وار کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا کہ پراکسی وار کبھی ختم نہیں ہوئی تھی، یہ پچھلی کئی دہائیوں سے چل رہی ہے اور ماڈرن وار فیئر کا ایک ہتھیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں:فلسطین پر مؤقف اٹل، پاکستان کو غزہ بھیجے جانے والی فورس کا حصہ بننا چاہیے، وزیر دفاع خواجہ آصف
پراکسی وار کی شدتخواجہ آصف نے مزید کہا کہ پچھلے کچھ عرصے میں پراکسی وار رک گئی تھی، تاہم اب پھر تیز ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان کو بڑی مار پڑی ہے اور وہ اپنی خفت مٹانے کے لیے افغانستان کے راستے پاکستان کو متاثر کرنا چاہتا ہے۔
ماضی اور حال کے دھماکےوزیر دفاع نے 1980 کی دہائی میں لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں ہونے والے دھماکوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب کی بار اسلام آباد کچہری میں جو دھماکا ہوا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ یہاں بھی آ سکتے ہیں۔ لیکن ہم اس وار پر قابو پائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان دہشتگردی کا سرپرست، ایسے عناصر کا زمین کے آخری کونے تک پیچھا کریں گے، خواجہ آصف
پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا خطرہجب وزیر دفاع سے پوچھا گیا کہ آیا پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور جنگ کا خطرہ تھا، تو انہوں نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بالکل ایک اور جنگ کا خطرہ موجود تھا، مئی کی جنگ کے بعد ہی صورتحال کافی گرم تھی۔
انہوں نے کہا کہ اگر سفارتی تعلقات کی بات کی جائے تو ہندوستان نے ہمیشہ پاکستان پر سبقت حاصل کی ہے، اس کے باوجود کہ ہم امریکا کے ساتھ دفاعی معاہدوں میں شریک تھے، ان کے ساتھ افغانستان میں دو جنگوں میں شریک رہے اور ہماری ایئرفیلڈز استعمال ہوتی تھیں۔
ہماری فتح کی تصدیق امریکی صدر نے کیوزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ تمام تر تعاون کے باوجود امریکا کی جانب سے ہمیں کبھی اتنا بڑا بریک تھرو نہیں ملا کہ ہماری فتح کی تصدیق امریکی صدر کریں، اور یہ کہیں کہ پاکستان کا پلڑا بھاری تھا اور پاکستان کو واضح فتح حاصل ہوئی۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے امکاناتخواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگ کا امکان اب بھی موجود ہے۔ بھارتی وزیراعظم کی ساکھ اس جنگ میں شکست کے بعد بری طرح متاثر ہوئی ہے، اس کے باوجود امریکی صدر بار بار بھارتی شکست کی تکرار کر رہے ہیں اور نریندر مودی آگے سے کوئی قدم نہیں اٹھا رہے۔
پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں بہتریان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات آج جس قدر بہتر ہوئے ہیں، اتنے ماضی میں کبھی نہیں تھے۔ سابق وزیراعظم عمران خان صرف ایک ٹیلیفون کال کے انتظار میں رہتے تھے۔ اس کی بنیادی وجہ پاکستان کی بھارت کو جنگ میں شکست تھی، تاہم دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پاکستان نے واضح کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگیں بند کروائی ہیں اور انہیں نوبل پیس پرائز ملنا چاہیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی خدمات کا اعترافخواجہ آصف نے کہا کہ ماضی میں کئی ایسی شخصیات کو نوبل انعام ملا ہے جن کا کوئی خاص کردار نہیں تھا، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعی مداخلت کرکے جنگیں بند کروائی ہیں اور وہ یوکرین اور روس کی جنگ بھی ختم کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دونوں ممالک کی تیاری مکملانہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کبھی بھی دوبارہ ہوسکتی ہے اور دونوں ممالک کی تیاری مکمل ہے۔ بھارت کو پہلے بھی معلوم تھا کہ پاکستان کے پاس کیا ہے، لیکن وہ اپنی برتری دکھانا چاہتا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news افغانستان امریکا پاکستان جنگ خواجہ آصف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان امریکا پاکستان خواجہ ا صف کے درمیان جنگ خواجہ آصف نے پاکستان اور کہ پاکستان پاکستان کو پراکسی وار خواجہ ا صف وزیر دفاع نے کہا کہ ہے اور جنگ کا
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔