WE News:
2026-07-24@13:44:28 GMT

انسانی روحوں کا ڈریم ٹائم تصور

اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT

انسان اپنے آغاز سے ہی اپنے وجود کے بھید کھولنے کی کوشش کرتا آیا ہے۔ زندگی کے سوالات تو کبھی نہ کبھی سلجھ ہی جاتے ہیں، مگر موت آج بھی وہ سب سے گہری پہیلی ہے جس نے انسان کو چونکا بھی رکھا ہے اور متجسس بھی۔ شاید اسی لیے ہر مذہب، ہر تہذیب اور ہر قبیلے نے اپنی اپنی شناخت اور تجربے کے مطابق اس سوال کا جواب تراشا کہ انسان مرنے کے بعد کہاں جاتا ہے؟

حیرت یہ ہے کہ یہ جوابات مختلف ہونے کے باوجود ایک لطیف سی ہم آہنگی رکھتے ہیں کہ جیسے سچائی کے کئی چراغ مختلف مکانوں میں روشن ہوں مگر اُن کی لو ایک ہی آسمانی ہوا سے جل رہی ہو۔

اسلام میں کہا جاتا ہے کہ جب انسان کا دنیاوی سفر تمام ہوتا ہے تو روح عالمِ برزخ میں داخل ہوجاتی ہے۔ یعنی 2 جہانوں کے بیچ ایک خاموش مقام، جہاں روح اپنے اعمال کے ساتھ رہتی ہے، جیسے زندگی کی پوری کتاب کھلی ہو اور روح اس کے اوراق پلٹتی رہے۔

یہودی اور مسیحی روایت میں بھی موت کے بعد ایسے ہی ایک عارضی قیام کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ مسیحیت اسے ’پرگیٹری‘ کہتی ہے اور یہودیت میں اسے ’ہائیڈیز‘ یا ’شیول‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، یعنی یک ایسا مقام جہاں روح آخری مرحلے (قیامت) کا انتظار کرتی ہے۔

روح کے بعد کے سفر کا جو تصور آسٹریلیا کی عظیم اور قدیم ایب اوریجنی تہذیب میں ملتا ہے، وہ بے حد شاعرانہ، نرم اور حیرت انگیز ہے۔ ایب اوریجنیز دنیا کی سب سے پرانی زندہ ثقافتوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی داستانیں، رسمیں اور عقائد کے سلسلے محض کہانیاں نہیں بلکہ انسان، فطرت اور کائنات کے درمیان ایک گہرے روحانی رشتے کا عہد نامہ ہیں۔

اُن کے کائناتی نظریات کا مرکز ڈریم ٹائم ہے، یعنی وہ اوّلین وقت جب دنیا بنی، جب پہاڑوں نے شکل اختیار کی، دریا، سمندر اور ندیاں بہہ نکلیں اور انسان نے پہلی مرتبہ زندگی کا لمس محسوس کیا۔

ڈریم ٹائم کی کہانیوں میں موت بھی زندگی کی طرح ایک سفر ہے جو ختم نہیں ہوتا، صرف روپ بدلتا ہے۔ ان کی روایت کہتی ہے کہ جب انسان اس دھرتی سے رخصت ہوتا ہے تو اس کی روح جسمانی قید سے آزاد ہو کر آسمان کی وسعتوں میں داخل ہوجاتی ہے، اور پھر ایک چمکتے ہوئے ستارے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

ان کے نزدیک آسمان پر جھلملاتے بے شمار ستارے دراصل وہی ارواح ہیں جو کبھی اسی زمین پر چلتی تھیں، گاتی تھیں، ہنستی تھیں، بچوں کو گود میں اٹھاتی تھیں اور شکار کے پیچھے بھاگتی تھیں۔ اب وہی ارواح اپنی نسلوں کو آسمان کی بلندیوں سے دیکھتی ہیں۔ یوں آسمان کا ہر ستارہ ایک کہانی ہے۔ ایک انسان، ایک خاندان، ایک سفر کی بازگشت۔

کئی ایب اویریجنیز قبائل جیسے Yolngu، Arrernte اور Noongar مانتے ہیں کہ زندگی ایک دائروی چکر ہے۔ روح آسمان سے اتر کر ماں کی کوکھ میں داخل ہوتی ہے، اور تکمیل کے مراحل طے کرکے دنیا میں قدم رکھتی ہے۔ پھر اپنا سفر مکمل کرکے دوبارہ اپنی آسمانی جائے پیدائش کی طرف لوٹ جاتی ہے۔

جب کسی کے مرنے پر آسٹریلیا کے آسمان میں کوئی تارہ ٹوٹتا ہے یا کبھی کوئی چمکتی لکیر آسمان پر دوڑتی دکھائی دیتی ہے، تو ایب اوریجنیز اسے ایک روح کا آسمان کی طرف اوپر اٹھنے کا سفر سمجھتے ہیں، جو اپنے خاندان (گلیکسی) میں پہنچ کر ایک نیا ستارہ بن جاتی ہے۔

یوں زمین اور آسمان کے درمیان رشتہ منقطع نہیں ہوتا۔ زندگی بس اپنے دائرے میں چلتی رہتی ہے۔ گویا ایب اوریجنی عقیدے کے مطابق زندگی اور موت الگ حقیقتیں نہیں بلکہ ایک ہی داستان کے 2 باہم جڑے ہوئے ابواب ہیں۔

اس فلسفے میں ایک نرم سی شاعری بکھری ہوئی ہے۔ ایک ایسا رشتہ جو ہر ستارے کو انسان کے ہر دکھ، ہر امید اور ہر محبت سے جوڑ دیتا ہے۔ جب کوئی بچھڑ جاتا ہے تو ایب اوریجنی باپ اپنے بچے کو آسمان کی طرف اشارہ کرکے بتاتا ہے: ’وہ دیکھو! وہ چمکتا ستارہ ۔۔۔ تمہارے دادا کی روح ہے۔ وہ تمہیں اوپر سے دیکھ رہا ہے، تمہاری حفاظت کر رہا ہے اور اندھیری رات میں تمہیں راستہ دکھا رہا ہے۔‘

یوں آسمان کا ہر ستارہ ایک حوالہ بن جاتا ہے، یاد کا حوالہ، محبت کا حوالہ، حفاظت کا حوالہ، اور اس رشتے کا حوالہ جو موت سے بھی نہیں ٹوٹتا۔ انسان جسمانی طور پر مر جاتا ہے، مگر اس کی روشنی باقی رہتی ہے۔ کہیں ستاروں کی صورت، کہیں یادوں کی صورت، کہیں خدا کے قرب میں۔ موت کے بعد ستارہ بن جانے کا اپنا ہی ایک حسن ہے۔

آئیے ہم بھی زندگی میں ایسے اعمال کریں کہ جب ہم اس دنیا سے رخصت ہوں تو شاید آسمان پر ستارہ نہ بن سکیں، مگر زمین پر کسی کے دل کی گلیکسی میں یاد کی ایک نرم روشنی ضرور چھوڑ جائیں، اور اگر کائنات کا کوئی روشن تارہ ہمارے حصے میں نہ آیا، تو کم از کم محبت اور نیک نیتی کا استعارہ بن کر لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں۔ یوں ہماری روشنی کہیں نہ کہیں، ہمیشہ کسی نہ کسی کے لیے راستہ دکھاتی رہے گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عباس سیال، سڈنی

ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے غلام عباس سیال 2004 سے آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں مقیم ہیں۔ گومل یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کے بعد سڈنی یونیورسٹی سے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ منیجمنیٹ میں بھی ماسٹرز کر رکھا ہے۔ آئی ٹی کے بعد آسٹریلین کالج آف جرنلزم سے صحافت بھی پڑھ چکے ہیں ۔ کئی کتابوں کے مصنف اور کچھ تراجم بھی کر چکے ہیں۔

انسانی روح ایب اوریجنیز ڈریم ٹائم سڈنی عالمِ برزخ عباس سیال یہودی اور مسیحی روایت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایب اوریجنیز ڈریم ٹائم عالم برزخ عباس سیال ڈریم ٹائم آسمان کی کا حوالہ جاتا ہے کے بعد

پڑھیں:

’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان

پاکستان کے لیجنڈری گلوکار عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے اپنی زندگی سے متعلق ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے مداحوں کو حیران کر دیا۔ معروف گلوکار کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے آبائی علاقے عیسیٰ خیل میں اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا رکھی ہے اور وہ آخرت کی تیاری کو زندگی کا اہم ترین حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔

عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے حال ہی میں صحافی ارشاد بھٹی کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی، موسیقی اور ذاتی خیالات پر کھل کر گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے آخرت کی تیاری کر لی ہے۔ میری قبر عیسیٰ خیل میں تیار ہے، مکمل بن چکی ہے۔ اگر آپ میری زندگی میں آئیں گے تو میں آپ کو دکھا دوں گا ورنہ بعد میں خود ہی دیکھ لیں گے۔ ہمارا اپنا خاندانی قبرستان بھی ہے، جہاں میں نے اپنے لیے ایک قبر مخصوص کر رکھی ہے۔ اس کے ساتھ چند جگہیں اور بھی ہیں جن میں سے ایک کے بارے میں میں نے مذاق میں کہا تھا کہ وہ میری اہلیہ کے لیے ہے لیکن ساتھ ہی کہا کہ مذاق کر رہا ہوں حقیقت میں صرف اپنی قبر محفوظ کروائی ہے۔ اللہ ہم سب پر رحم فرمائے۔

گلوکار نے قبر کے بارے میں بتایا کہ یہ خیال اس وقت آیا جب میں نے ایک فارم ہاؤس اور مسجد تعمیر کروائی۔ پھر سوچا کہ میرے لیے بھی ایک جگہ ہونی چاہیے۔ میں اپنے کئی قریبی دوستوں، عزیزوں، خاندان کے افراد اور اپنی والدہ کو کھو چکا ہوں، اسی لیے موت کا خیال ہمیشہ ذہن میں رہتا ہے۔ میری صرف یہی دعا ہے کہ اللہ مجھے پُرسکون موت عطا فرمائے۔

یہ بھی پڑھیں: عطااللہ عیسیٰ خیلوی کس کے لکھے گانے گا کر مشہور ہوئے؟

عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آنے لگیں۔ ایک صارف نے لکھا قبر پہلے سے بنوانا درست نہیں البتہ کفن کی تیاری کی جا سکتی ہے۔

ایک اور نے تبصرہ کیا صرف قبر تیار کر لینا کافی نہیں، اصل تیاری آخرت کی ہونی چاہیے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ان کا ایمان مضبوط ہے، ہم تو قبر کا ذکر کرنے سے بھی گھبراتے ہیں جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا قبر بنانے کے بجائے اگر اولڈ ایج ہوم بنا دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عطااللہ عیسیٰ خیلوی عیسیٰ خیلوی عیسیٰ خیلوی قبر قبر گلوکار ویڈیو وائرل

متعلقہ مضامین

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا
  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • زندگی کا مقصد
  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ