فرانسیسی کمانڈر نے ایک سے زیادہ رافیل کی تباہی کا کہا، حامد میر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
کراچی (ویب ڈیسک) بھارتی طیارے گرائے جانے کی فرانسیسی بحریہ کے کمانڈر کی تصدیق پر سنیئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ بریفنگ کے دوران فرانسیسی کمانڈر نے ایک سے زیادہ رافیل کی تباہی کا کہا جبکہ رافیل تباہ نہ ہونے کے بھارتی وفد کے موقف کو کیپٹن Launay نے نظر انداز کر دیا۔
حامد میر نے مزید بتایا کہ کیپٹنLaunay پچھلے 25 سال سے رافیل اُڑا رہے ہیں، یہ (Landivisiau) نیول ایئر بیس کے کمانڈر ہیں۔ ان کے ایئر بیس پر 40 رافیل طیارے موجود ہیں اور انہوں نے پچھلے ہفتے رافیل کے ذریعے نیوکلیئر میزائل کا ٹیسٹ بھی کیا جس پر وار ہیڈ نہیں تھا البتہ وہ بہت اہم تھا۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ کیپٹنLaunay جس ایئر بیس پرکمانڈر ہیں وہاں ایک کانفرنس ہو رہی ہے بھارت کے وفد کو اور ہمیں اس ایئر بیس پر لے جایا گیا اور کیپٹن لونائے نے جہاز کے سامنے کھڑے ہو کر بریف کیا۔
حامد میر نے بتایا کہ وہاں ہم نے کیپٹنLaunay پوچھا کہ کس طرح اتنے ماڈرن جہاز کا ریڈار سسٹم جیم ہوا جس پر اُن کا کہنا تھا کہ یہ کوئی ٹیکنالوجیکل برتری کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ اس کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کیا گیا، پاکستان کی ایئر فورس پہلے سے ہی تیار تھی اس لیے ٹارگٹ کو ہٹ کرنے میں کامیاب رہی۔
اُنہوں نے مزید بتایا کہ جب کیپٹنLaunay تفصیلات بتا رہے تھے تو وہاں موجود بھارتی وفد نے ان کی بات کو کاٹتے ہوئے کہا یہ سب چین کا پروپیگنڈا ہے بھارت کا کوئی رافیل تباہ نہیں ہوا مگر کیپٹنLaunay نے انہیں نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات بہت اہم ہے کہ جو رافیل تباہ ہوئے ان کا ریڈار سسٹم کیوں جیم ہوا تھا چونکہ جب سے یہ بنے ہیں انہیں پہلی دفعہ جنگ میں تباہ کیا گیا ہے اور ہم چاہتے ہیں ہم ان چیزوں کا مطالعہ کریں تاکہ مزید بہتری لاسکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایئر بیس
پڑھیں:
کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔