سپیشل برانچ کو علیحدہ یونٹ بنانے کی منظوری، تمام وسائل فراہم کریں گے: سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبرپختونخوا حکومت نے سپیشل برانچ کو باقاعدہ سپیشلائزڈ یونٹ/ علیحدہ کیڈر کے طور پر قائم کرنے کی منظوری دے دی۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل افریدی کی زیرِ صدارت پولیس کی سپیشل برانچ سے متعلق اہم اجلاس ہوا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سپیشل برانچ کے اہلکار انٹیلی جنس، سکیورٹی، ویریفیکیشن، سروے اور سرویلنس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں، ضم شدہ قبائلی اضلاع کے 308 اہلکاروں کو بھی سپیشل برانچ کا حصہ بنایا گیا ہے۔
شدید زخمی ہونے والی دلہن نے دولہا سے ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں شادی کر لی
بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ سال 2025 میں سپیشل برانچ نے 2 خودکش جیکٹس، 32 آئی ای ڈیز، 70 راکٹ شیلز اور 288 ہینڈ گرینیڈز ناکارہ بنائے، گزشتہ سال اسپیشل برانچ نے 635 سیاسی اجتماعات کی سکیورٹی اور اسلحہ و ایکسپلوسِو لائسنس کی ویریفیکیشن کی، 3124 نادرا ویریفیکیشنز، 6840 پاسپورٹ، 14518 سی پیک، 6060 پرسنل اور 9413 سرکاری اہلکاروں کی ویریفیکیشنز بھی انجام دی گئیں۔
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے سپیشل برانچ کو باقاعدہ اسپیشلائزڈ یونٹ/علیحدہ کیڈر کے طور پر قائم کرنے کی منظوری دے دی، اجلاس میں سپیشل برانچ میں 1221 اہلکاروں کی اسامیاں تخیلق کرنے کی بھی اصولی منظوری دی گئی۔
بلاول بھٹو کو جدوجہد کر کے وزیر اعظم بنانا ہے: گورنر پنجاب
سہیل آفریدی نے کہا کہ سپیشل برانچ کو درکار تمام ہیومن ریسورس اور دیگر وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کئے جائیں گے۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے انفراسٹرکچر کیلئے 1820 ملین اور موٹر وہیکلز کیلئے 904.
انہوں نے کہا کہ سپیشل برانچ کو انٹیلی جنس اور انسدادِ دہشت گردی کے تقاضوں کے مطابق جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کلیدی ستون ہے، سپیشل برانچ کی استعداد بڑھانے کیلئے تمام وسائل فراہم کریں گے۔
گورننس کی نگرانی مزید سخت، کوتاہی برداشت نہیں ہوگی: مریم نواز
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے سپیشل برانچ کے مجوزہ الاؤنسز کو ترجیحی بنیادوں پر منظوری کے لئے پیش کرنے کی ہدایت کی، صوبے بھر میں سپیشل برانچ کیلئے نئی عمارتوں کے قیام کی بھی منظوری دی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سپیشل برانچ کو کرنے کی سہیل ا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔