ڈیلی میل کے مالک ’ڈی ایم جی ٹی‘ نے کہا ہے کہ اس نے حریف اخبار ’ٹیلیگراف‘ خریدنے کے لیے 50 کروڑ پاؤنڈ (65 کروڑ ڈالر) کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس سے برطانیہ کے سب سے طاقتور دائیں بازو کے میڈیا گروپس میں سے ایک وجود میں آئے گا۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ اس ہفتے سامنے آیا ہے، جب امریکا کی پرائیویٹ انویسٹمنٹ فرم ریڈ برڈ کیپیٹل پارٹنرز نے برطانیہ کے سب سے بڑے اخبارات میں سے ایک The Telegraph کی بولی واپس لے لی تھی۔

2023 میں ریڈ برڈ -آئی ایم آئی کی ایک مشترکہ کمپنی نے ٹیلیگراف میڈیا گروپ اور دی اسپیکٹیٹیٹر میگزین حاصل کیے تھے، لیکن اس وقت کی حکومت نے مداخلت کرتے ہوئے برطانیہ کے اخبارات میں غیر ملکی ریاستی سرمایہ کاری پر پابندی عائد کر دی تھی۔

اس کے بعد ریڈ برڈ نے حکومت سے رسمی طور پر اجازت طلب کی تھی تاکہ ترمیم شدہ ڈھانچے کے تحت حصول کو آگے بڑھایا جا سکے، جس میں ابو ظہبی کے تعاون یافتہ آئی ایم آئی نے 15 فیصد تک محدود اقلیتی سرمایہ کاری کے طور پر حصہ لیا تھا۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو ریڈ برڈ کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ ریگولیٹری منظوری کے عمل میں توقع سے زیادہ تاخیر ہوئی، جس کی وجہ سے حصول کے وقت اور امکان کے بارے میں شبہات پیدا ہوئے، ٹیلیگراف کے نیوز روم کے سینئر افراد کی مسلسل داخلی مخالفت نے انہیں معاہدے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔

فنانشل ٹائمز (جس نے سب سے پہلے ’ڈی ایم جی ٹی‘ کے معاہدے کی خبر دی) کے مطابق قیمت تقریباً 50 کروڑ پاؤنڈ مقرر کی گئی تاکہ ریڈ برڈ کی قیادت میں کنسورشیم کے خرچ کیے گئے پیسے کی واپسی کی جا سکے۔

ڈی ایم جی ٹی نے ایک بیان میں کہا کہ فریقین نے معاہدے کی شرائط کو حتمی شکل دینے اور ضروری ریگولیٹری درخواستیں تیار کرنے کے لیے خصوصی دورانیہ شروع کر دیا ہے، جس کی توقع ہے کہ یہ جلد مکمل ہو جائے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ لین دین برطانیہ کے فارن اسٹیٹ انفلوئنس ریجیم کے مطابق ہوگا کیونکہ فنڈنگ کے ڈھانچے میں کوئی غیر ملکی ریاستی سرمایہ کاری یا سرمایہ شامل نہیں ہوگا۔

ڈی ایم جی ٹی نے 2023 میں دی ٹیلیگراف میڈیا گروپ کے لیے ممکنہ بولی میں دلچسپی ظاہر کی تھی، اسکائی نیوز نے اس سال مئی میں رپورٹ کیا تھا کہ ڈی ایم جی ٹی، ٹیلیگراف کے ٹائٹلز میں 9.

9 فیصد شیئر خریدنے کی بات چیت کر رہا تھا۔

ڈی ایم جی ٹی کے میڈیا برانڈز میں دی میل آن سنڈے، میٹرو، دی آئی پیپر اور نیوسائنٹسٹ بھی شامل ہیں، ڈیلی ٹیلیگراف گروپ کے دیگر ٹائٹلز سے ایڈیٹوریل طور پر آزاد رہے گا۔

ریڈ برڈ آئی ایم آئی کے ایک ترجمان نے کہا کہ ڈی ایم جی ٹی اور ریڈ برڈ آئی ایم آئی نے آج اعلان کردہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیزی سے کام کیا، جسے جلد ہی سیکریٹری آف اسٹیٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ا ئی ڈی ایم جی ٹی برطانیہ کے ریڈ برڈ کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل