ڈیلی میل کے مالک کا حریف اخبار ’ٹیلیگراف‘ خریدنے کیلئے 65 کروڑ ڈالر کا معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
ڈیلی میل کے مالک ’ڈی ایم جی ٹی‘ نے کہا ہے کہ اس نے حریف اخبار ’ٹیلیگراف‘ خریدنے کے لیے 50 کروڑ پاؤنڈ (65 کروڑ ڈالر) کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس سے برطانیہ کے سب سے طاقتور دائیں بازو کے میڈیا گروپس میں سے ایک وجود میں آئے گا۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ اس ہفتے سامنے آیا ہے، جب امریکا کی پرائیویٹ انویسٹمنٹ فرم ریڈ برڈ کیپیٹل پارٹنرز نے برطانیہ کے سب سے بڑے اخبارات میں سے ایک The Telegraph کی بولی واپس لے لی تھی۔
2023 میں ریڈ برڈ -آئی ایم آئی کی ایک مشترکہ کمپنی نے ٹیلیگراف میڈیا گروپ اور دی اسپیکٹیٹیٹر میگزین حاصل کیے تھے، لیکن اس وقت کی حکومت نے مداخلت کرتے ہوئے برطانیہ کے اخبارات میں غیر ملکی ریاستی سرمایہ کاری پر پابندی عائد کر دی تھی۔
اس کے بعد ریڈ برڈ نے حکومت سے رسمی طور پر اجازت طلب کی تھی تاکہ ترمیم شدہ ڈھانچے کے تحت حصول کو آگے بڑھایا جا سکے، جس میں ابو ظہبی کے تعاون یافتہ آئی ایم آئی نے 15 فیصد تک محدود اقلیتی سرمایہ کاری کے طور پر حصہ لیا تھا۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو ریڈ برڈ کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ ریگولیٹری منظوری کے عمل میں توقع سے زیادہ تاخیر ہوئی، جس کی وجہ سے حصول کے وقت اور امکان کے بارے میں شبہات پیدا ہوئے، ٹیلیگراف کے نیوز روم کے سینئر افراد کی مسلسل داخلی مخالفت نے انہیں معاہدے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔
فنانشل ٹائمز (جس نے سب سے پہلے ’ڈی ایم جی ٹی‘ کے معاہدے کی خبر دی) کے مطابق قیمت تقریباً 50 کروڑ پاؤنڈ مقرر کی گئی تاکہ ریڈ برڈ کی قیادت میں کنسورشیم کے خرچ کیے گئے پیسے کی واپسی کی جا سکے۔
ڈی ایم جی ٹی نے ایک بیان میں کہا کہ فریقین نے معاہدے کی شرائط کو حتمی شکل دینے اور ضروری ریگولیٹری درخواستیں تیار کرنے کے لیے خصوصی دورانیہ شروع کر دیا ہے، جس کی توقع ہے کہ یہ جلد مکمل ہو جائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ لین دین برطانیہ کے فارن اسٹیٹ انفلوئنس ریجیم کے مطابق ہوگا کیونکہ فنڈنگ کے ڈھانچے میں کوئی غیر ملکی ریاستی سرمایہ کاری یا سرمایہ شامل نہیں ہوگا۔
ڈی ایم جی ٹی نے 2023 میں دی ٹیلیگراف میڈیا گروپ کے لیے ممکنہ بولی میں دلچسپی ظاہر کی تھی، اسکائی نیوز نے اس سال مئی میں رپورٹ کیا تھا کہ ڈی ایم جی ٹی، ٹیلیگراف کے ٹائٹلز میں 9.
ڈی ایم جی ٹی کے میڈیا برانڈز میں دی میل آن سنڈے، میٹرو، دی آئی پیپر اور نیوسائنٹسٹ بھی شامل ہیں، ڈیلی ٹیلیگراف گروپ کے دیگر ٹائٹلز سے ایڈیٹوریل طور پر آزاد رہے گا۔
ریڈ برڈ آئی ایم آئی کے ایک ترجمان نے کہا کہ ڈی ایم جی ٹی اور ریڈ برڈ آئی ایم آئی نے آج اعلان کردہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیزی سے کام کیا، جسے جلد ہی سیکریٹری آف اسٹیٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ا ئی ڈی ایم جی ٹی برطانیہ کے ریڈ برڈ کے لیے
پڑھیں:
بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔
مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمیمارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟
مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔
ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئےکرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔
ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔
’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہکرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف) سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔
مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان
اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔
کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکمدلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر