لالو کی بیٹی روہنی نے خاندان سے لاتعلقی کی اصل وجہ بتا دی
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
لالو پرساد یادو کی بیٹی روہنی آچاریہ نے اپنے خاندان اور آر جے ڈی سے علیحدگی کے ایک دن بعد نئے انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مسلسل ذلت، گالی گلوچ اور یہاں تک کہ چپل سے مارنے کی کوشش جیسے رویّوں کا سامنا کرنا پڑا۔
روہنی کے مطابق ان کی خودداری اور سچائی پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے انہیں یہ سب برداشت کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیے انتخابات میں شکست: لالو پرساد یادو کی بیٹی نے سیاست اور خاندان سے لاتعلقی کا اعلان کردیا
اتوار کو ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا:
’کل ایک بیٹی، ایک بہن، ایک شادی شدہ عورت اور ایک ماں کی تذلیل کی گئی، اس پر گندی گالیاں برسائی گئیں، چپل اٹھا کر مارنے کی کوشش کی گئی۔ میں نے اپنی خودداری پر سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی سچ سے پیچھے ہٹی، اسی لیے مجھے یہ بےعزتی سہنی پڑی۔‘
روہنی نے کہا کہ مجبوری کے عالم میں انہیں اپنے روتے ہوئے والدین اور بہنوں کو چھوڑ کر گھر سے جانا پڑا۔
انہوں نے مزید کہا ’انہوں نے مجھے میرے اپنے ہی میکے سے الگ کر دیا… مجھے یتیم بنا دیا… اللہ کرے کسی کی زندگی میں ایسا وقت نہ آئے۔‘
روہنی نے گزشتہ روز یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ تیجسوی یادو کے قریبی 2افراد نے انہیں یہ کہہ کر سیاست چھوڑنے اور خاندان سے رشتہ توڑنے کے لیے کہا کہ انہوں نے اپنے والد کے لیے ’گندی کِڈنی ٹرانسپلانٹ‘ کروائی اور کروڑوں روپے لیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
روہنی اچاریہ لالو پرساد یادو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: لالو پرساد یادو انہوں نے
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔