ویب ڈیسک : ڈرائیونگ لائسنس بنوانے میں کرپشن کی شکایات اور لائسنس کے پراسس میں شفافیت لانے کیلئے اہم اقدام اٹھایا گیا ہے۔ 

ڈرائیونگ ٹیسٹ کیلئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے لیے ٹریفک ہیڈ کوارٹر نے 32گاڑیاں خریدنے کی سمری حکومت کو ارسال کردی ہے۔

 ٹریفک حکام کے مطابق دسمبر تک گاڑیوں کی خریداری مکمل کی جائے گی،گاڑیوں میں سنسرز ،کیمرے ،پراسسر کی تنصیب کرائی جائے گی۔ حکام نے بتایا کہ ابتدائی طور پر تیار گاڑیاں لاہور و دیگر بڑے شہروں میں دی جائیں گی۔ تجرباتی بنیادوں پر 2گاڑیاں تیار کروا کر ٹیسٹنگ کا عمل مکمل کروایا جاچکاہے۔ 32گاڑیوں کی خریداری کیلئے 16کروڑ سے زائد کے فنڈز خرچ ہوں گے۔

نادرا کا سسٹم ڈاؤن ، بیرون ملک جانے کیلئے پولیو سرٹیفکیٹ کا اجرا بند

ٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ گاڑیوں میں سامان کی انسٹالیشن پر اوسط6 لاکھ اخراجات آئیں گے، جدید گاڑیوں کی لانچنگ سے ٹیسٹ ، رزلٹ آٹومیٹکلی جنریٹ ہوں گے۔ سفارشی ،نااہل امیدوارکسی صورت لائسنس حاصل نہیں کرسکیں گے۔

 ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب نے گاڑیوں کی خریداری کے سمری حکومت کوبھجوا دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: گاڑیوں کی

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار