Jasarat News:
2026-07-24@02:34:23 GMT

ماتلی ،بدترین جام چینل پل کی بندش شہر کو مفلوج کدیا

اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ماتلی (نمائندہ جسارت) ماتلی میں ٹریفک جام کا مسئلہ گزشتہ کئی ماہ سے سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ ماتلی کے چینل پل کو خستہ حالی کے باعث طویل عرصے سے ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ٹنڈو غلام علی، ڈگری، اسلام کوٹ، مٹھی اور دیگر علاقوں سے آنے جانے والی تمام کمرشل اور مسافر بردار گاڑیاں متبادل راستوں پر منتقل کر دی گئی ہیں۔ چینل پل کی بندش کے بعد ٹنڈو غلام علی روڈ کی ٹریفک، مختلف علاقوں کی پبلک ٹرانسپورٹ، لوکل بسیں اور بھاری کمرشل گاڑیاں شہر کے درمیان سے گزرنے پر مجبور ہیں، جس کی وجہ سے شہر کے اندر ٹریفک کا دباؤ کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ خصوصاً اسکول اوقات کے دوران ٹریفک جام معمول بن چکا ہے، جس سے طلبہ، والدین اور دیگر شہری سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ دوسری جانب مین بدین روڈ پر بھی ٹریفک کا نظام بری طرح درہم برہم ہے۔ کمرشل بینکوں کے سامنے بے ہنگم پارکنگ اور ان کے قریب دو بریانی شاپس کے درمیان گاڑیوں کی ڈبل پارکنگ کے باعث سڑک انتہائی تنگ ہو جاتی ہے، جس سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ شہریوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ روزانہ گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہنا معمول بن چکا ہے، جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ عوام مطالبہ کرتے ہیں کہ چینل پل کی مرمت اور تعمیر کو فوری طور پر مکمل کیا جائے تاکہ میرپور روٹ اور دیگر اضلاع سے آنے والی بھاری ٹریفک شہر کے درمیان سے گزرنے کی بجائے اپنے اصل راستوں پر منتقل ہو سکے۔ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ہائی ویز سے مطالبہ کیا ہے کہ چینل پل کی تعمیر تیز کی جائے، شہر میں پارکنگ کے غیر قانونی استعمال کے خلاف کارروائی کی جائے اور ٹریفک پلان کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے تاکہ عوام کو بدترین ٹریفک مسائل سے نجات مل سکے۔

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چینل پل کی

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر