کراچی: بدر کمرشل فیز 5 میں خاتون کی موت کیسے ہوئی؟ گُتھی نہ سلجھی
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
کراچی کے علاقے ڈیفنس بدر کمرشل فیز فائیو میں خاتون کی موت کیسے واقع ہوئی؟ گُتھی نہ سلجھ سکی۔
وزیر ترقی نسواں سندھ شاہینہ شیر علی کا خاتون کی مشکوک موت پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس سے واقعے کی مکمل تفصیلات طلب کرلیں۔
انہوں نے واقعے کی تمام پہلوؤں سے انکوائری کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ کے مطابق واقعہ مشکوک ہے اور قتل کا شبہ ظاہر ہوتا ہے، ہر زاویے سے مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔
لڑکی کے والد نے قتل کا مقدمہ درج کرا دیا، پولیس کو بتایا بیٹی داماد کے رشتہ داروں کے گھر عارضی طور پر مقیم تھی۔
پولیس کے مطابق ابتدائی معلومات اور تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ خاتون کی گزشتہ ماہ شادی ہوئی تھی، ہلاکت کے وقت وہ اپنے شوہر کے رشتہ دار کے گھر بدر کمرشل میں گھومنے کے لیے رہائش پذیر تھی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کا شوہر اس وقت کوٹری میں اپنی ٹریننگ کے سلسلے میں موجود تھا، والد بھی محکمہ پولیس سے وابستہ ہیں اور تھانہ ایئرپورٹ میں تعینات ہیں۔
پولیس کے مطابق خاتون کے شوہر کے رشتہ دار نے ہی والد کو فون کرکے واقعے سے آگاہ کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خاتون کی
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔