بیوی کی لاش محفوظ رکھنے کے بعد نئی دوستی کیوں؟ شوہر کی ‘بے وفائی’ سوشل میڈیا پر زیر بحث
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
چین میں ایک شخص کی ذاتی زندگی نے سوشل میڈیا پر اخلاقی بحث چھیڑ دی ہے۔
57 سالہ گُوئی جون من نے اپنی بیوی ژان وین لیان کو 2017 میں وفات کے بعد کرائیونکس کے ذریعے منجمد کرایا تھا۔ وہ چین میں اس طریقے سے محفوظ کی جانے والی پہلی شخصیت بنی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے: کوہستان کے برف پوش پہاڑوں سے حیرت انگیز خبر، 28 سال بعد برف سے لاش برآمد
ان کا جسم شانڈونگ یِن فنگ لائف سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں -190 ڈگری سینٹی گریڈ پر ایک بڑے کرائیونک ٹینک میں محفوظ ہے، جس کے لیے گُوئی نے 30 سال کا معاہدہ کیا تھا۔
تاہم، حالیہ انٹرویو میں سامنے آیا کہ گُوئی 2020 سے وانگ چون شیایا نامی خاتون کے ساتھ تعلق میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بیوی کے انتقال کے بعد وہ 2 سال تنہا رہے، مگر بعد میں انہیں محسوس ہوا کہ تنہائی مشکل ہے، جس کے بعد انہوں نے دوبارہ تعلق استوار کیا۔ ان کے مطابق یہ رشتہ ضرورت پر مبنی ہے اور نئی ساتھی ’دل میں داخل نہیں ہوئی’۔
یہ بھی پڑھیے: اداکار گووندا مشکل میں، بیوی سنیتا آہوجا کا بے وفائی اور ظلم کرنے کا الزام
اس انکشاف کے بعد چینی سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی۔ کچھ صارفین نے کہا کہ اتنے برس بعد ان کے لیے نئی زندگی شروع کرنا فطری ہے اور مرحومہ کو سکون سے آرام کرنے دینا چاہیے۔ دوسری جانب ناقدین نے انہیں خود غرض اور بے وفا قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ کیا ژان اس پر راضی ہوتیں؟ اور کیا یہ ان کے ساتھ انصاف ہے؟
کرائیونکس کیا ہے؟کرائیونکس میں جسم کو کرائیوپروٹیکٹینٹس کے ذریعے برف بننے سے بچا کر مائع نائٹروجن میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ مستقبل میں ٹیکنالوجی ترقی پا کر ان جسموں کو دوبارہ زندہ کر سکے گی۔
یہ بھی پڑھیے: کوئی شخص بے وفائی کرے تو انسان کیا کرے؟ فرح اقرار الحسن کی نصیحت
دنیا بھر میں تقریباً 500 افراد کرائیونکس کے ذریعے محفوظ کیے گئے ہیں، مگر آج تک کسی انسان کو اس حالت سے زندہ نہیں کیا جا سکا۔
یہ واقعہ چین میں محبت، وفاداری اور نقصان کے بعد نئی زندگی شروع کرنے جیسے موضوعات پر وسیع بحث کا سبب بنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔