ہنگورجہ، بے امنی کیخلاف سھتہ برادری سڑکوں پر نکل آئی
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ہنگورجہ (نمائندہ جسارت)رانی پور تھانے کی حدودمیں میں بے امنی پر کنٹرول نہ ہوسکا قومی شاہراہ پر پولیس پکٹ کے سامنے گڈیجی کے رہائشی سے مسلح افرادوں نے موٹر سائیکل موبائل فون نقد رقم چھین کر فرار۔سھتہ برادری کی جانب سے واقعے کے خلاف احتجاج۔پولیس اور جرائم پیشہ افراد آپس میں ملے ہوئے ہیں،مظاہرین۔ تفصیلات کے مطابق رانی پور تھانے کی حدودمیں میں کئی دنوں سے بے امنی عروج پر پولیس بے امنی پر کنٹرول کرنے میں ناکام گڈیجی قومی شاہراہ پر نولکھی نہر کی پل پر پولیس پکٹ کے سامنے نامعلوم مسلح افراد نے اسلحے کے زور پر رانی پور سے گڈیجی اپنے گھر جانے کے دوران طفیل احمد سھتو سے موٹر سائیکل ،موبائل فون ،نقد رقم چھین کر باآسانی سے فرار ہوگئے۔ اطلاع ملنے پر سھتہ برادری کے لوگ جائے وقوع پر پہنچ کر گڈیجی میں بڑھتی ہوئی بے امنی کے خلاف طفیل احمد سھتو ،نعمت سھتو،تحمیل سھتو، ثمر علہ ، شکیل احمد، مولا بخش ، عبدالرشید،فھیم رضا کی قیادت میں قومی شاہراہ پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے پولیس چور گٹ جوڑ نامنظور،بے امنی پر کنٹرول کرو ، شہریوں کو تحفظ فراہم کرو اور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کررہیں تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ گڈیجی نولکھی نہر کی پل پر پولیس پکٹ سے مسلح افراد نکل کر اسلحے کے زور پر طفیل احمد سھتو سے دن دہاڑے موٹر سائیکل موبائل فون نقد رقم چھین کر باآسانی سے فرار ہوگئے اور گڈیجی شہرمیں بے امنی عروج پر ہے شہری غیر محفوظ بن گئے ہیں اور پولیس اکثر غائب رہتی ہے اور جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رانی پور تھانے پر کئی برسوں سے مقامی پولیس اہلکار تعینات ہیں جس کی وجہ سے امن امان کی صورتحال خراب ہے۔ انہوں نے ڈی آئی جی پولیس سکھر سے مطالبہ کیا ہے مقامی پولیس اہلکاروں کو کندھکوٹ،کشمور اور گھوٹکی تبادلہ کیا جائے اور بے امنی پر کنٹرول کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بے امنی پر کنٹرول رانی پور پر پولیس
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔