پتنگ کیوں اڑائی، باپ نے 11 سالہ بیٹے کو تشدد کرکے قتل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ہفتہ کے روز ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جب باپ نے اپنے بیٹے کو تشدد کرکے قتل کردیا۔
کلی شابو کی ایک خاموش گلی میں واقع چھوٹی سی حجامت کی دکان میں وہ منظر کسی نے نہ دیکھا، مگر بعد میں سامنے آنے والی تفصیلات ہر سننے والے کو لرزا گئیں۔
مزید پڑھیں: بیمہ کی رقم حاصل کرنے کے لیے ماں نے ’دوست‘ کے ہاتھوں جوان بیٹا قتل کروا دیا
دکان کا مالک محمد ندیم جو چند ماہ قبل سیالکوٹ سے اپنے 11 سالہ بیٹے محمد سلطان کے ساتھ کوئٹہ منتقل ہوا تھا، اور اسی دکان میں رہائش پذیر تھا۔ یہی جگہ بچے کے لیے گھر بھی تھی اور بدقسمتی سے آخری پناہ گاہ بھی۔
پولیس کے مطابق معمول کے دن کی طرح سلطان نے باہر جا کر پتنگ اُڑائی، مگر اسی معمولی بات نے چند لمحوں میں اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے ختم کر دی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ محمد ندیم نے اپنے بیٹے محمد سلطان پر تشدد کیا، اور بچہ شدید زخمی ہوگیا جس کے بعد بچے کا باپ اسے سول اسپتال لے آیا۔
اسپتال میں کی جانے والی طبی جانچ نے واقعہ کی ہولناکی مزید واضح کردی۔
ڈاکٹرز کے مطابق بچے کے ماتھے، سر کے پچھلے حصے، ٹانگوں، ہاتھوں اور کمر پر تشدد کے گہرے نشانات تھے، اور موت کی وجہ بھی یہی سفاک مارپیٹ بنی۔
پولیس کے مطابق ندیم نے ابتدائی بیان میں اعتراف کیاکہ اس نے بیٹے کو پتنگ اُڑانے پر سزا دی تھی۔
مزید پڑھیں: مانسہرہ: بیٹی کو اغوا سے بچاتے ہوئے مزاحمت پر باپ بیٹا قتل
اس کا کہنا تھا کہ بچے کی طبیعت خراب ہوئی تو وہ پہلے اسے ایک نجی کلینک اور پھر سول اسپتال لے جارہا تھا، مگر راستے میں ہی اس کی سانسیں رک گئیں۔
ملزم کو گرفتار کرکے سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کردیا گیا ہے۔ اور پولیس واقعے کی مزید تحقیقات کررہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بیٹا قتل پتنگ کیوں اڑائی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بیٹا قتل وی نیوز کے لیے
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔