کراچی میں موٹر سائیکل سوار خواتین کو گاڑی کی ٹکر، ایک خاتون جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
تیز رفتار کرولا گاڑی نے اسکوٹی موٹرسائیکل کو ٹکر مار دی، جس کے باعث اسکوٹی موٹرسائیکل پر سوار 2 خواتین پل سے نیچے جا گریں۔ پُل سے گرنے کے نتیجے میں دونوں خواتین شدید زخمی ہوگئیں۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں ٹریفک حادثات میں کمی کے ٹریفک پولیس کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، کراچی میں روزانہ کی بنیاد پر شہری اپنے قیمتی جانیں گنوانے لگے۔ تفصیلات کے مطابق سپرہائیوے دنبہ گوٹھ کے قریب تیز رفتار کرولا گاڑی نے اسکوٹی موٹرسائیکل کو ٹکر مار دی، جس کے باعث اسکوٹی موٹرسائیکل پر سوار 2 خواتین پل سے نیچے جا گریں۔ پُل سے گرنے کے نتیجے میں دونوں خواتین شدید زخمی ہوگئیں۔ حادثے کی اطلاع پر علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد میں جمع ہو گئی، جبکہ پولیس اور ریسکیو ادارے بھی پہنچ گئے۔ حادثے میں زخمی ہونے والی ایک خاتون کو قریبی اور دوسری خاتون کو تشویشناک حالت میں عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا، عباسی شہید اسپتال منتقل کی جانے والی خاتون کے دم توڑ گئیں۔
حادثے میں جاں بحق خاتون کی شناخت 20 سالہ سمرا شیخ اور زخمی خاتون کی شناخت 37 سالہ رابعہ ناز کے نام سے کی گئی، حادثے میں جاں بحق اور زخمی خاتون بحریہ ٹاؤن کی رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے ٹیچر ہیں۔ ایس ایچ او گڈاپ سٹی سرفراز جتوئی نے بتایا کہ جاں بحق و زخمی خواتین شہر میں کسی کوچنگ سینٹر یا پرائیویٹ تعیلمی ادارے میں پڑھاتی ہیں، حادثے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے گاڑی کو تحویل میں لیکر کے ڈرائیور کاشف عزیز کو حراست میں لے لیا اور حادثے سے متعلق مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔