سینیٹ میں27 ویں ترمیم منظور ، اپوزیشن کا واک آؤٹ
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
تمام 59شقوں کی شق وار منظوری، 64ارکان نے ہر بار کھڑے ہوکر ووٹ دیا،صدر مملکت کو تاحیات گرفتار نہ کرنے کی شق کی منظوری،کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکے گی
فیلڈ مارشل کو قانونی استثنیٰ حاصل، وردی اور مراعات تاحیات ہوں گی،فیلڈ مارشل، ایٔر مارشل اور ایڈمرل چیف کو قومی ہیروز تصور کیا جائے گا، تینوں کو آرٹیکل 47 کے بغیر نہیں ہٹایا جا سکے گا
سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم دوتہائی اکثریت سے منظورہوگئی۔ جمعیت علماء اسلام کے سینیٹر احمد خان اور پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی ووٹ دینے کی وجہ سے بل پاس ہوا۔ اپوزیشن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ سینیٹ کا اجلاس چیٔرمین سینیٹ یوسف رضاگیلانی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں آئینی ترمیم کا بل ایوان میں پیش کیا۔جس کے بعد 27 ویں آئینی ترمیم کی تمام 59شقوں کی شق وار منظوری دی گئی۔ تمام شقیں دو تہائی اکثریت سے منظوری ہوئیں جس لے لیے 64ارکان نے ہر بار کھڑے ہوکر ووٹ دیا۔ جبکہ بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن ایوان سے واک آؤٹ کرگئی۔ اپوزیشن میں تحریک انصاف،جمعیت علماء اسلام اور ایم ڈبلیو ایم اور سنی تحریک کے سینیٹرز نے بل کے خلاف واک آؤٹ کیا۔ آئین کے آرٹیکل 243 کی دو شقوں 4 اور 7 میں نئی ترامیم کی گئی ہیں۔ آرٹیکل 243 کی شق 4 اور 7 میں ترمیم کے تحت چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے کا نام تبدیل کر کے کمانڈر آف ڈیفنس فورسزکردیا گیا ہے۔ترمیم کے مطابق صدر مملکت وزیراعظم کی تجویز پر ایٔرچیف اور نیول چیف کی طرح کمانڈرآف ڈیفنس فورسز کا تقرر کریں گے جبکہ جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ 27نومبر 2025 سے ختم تصور کیا جائیگا۔اس کے علاوہ وزیر اعظم، آرمی چیف کی سفارش پر کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا تقرر کرینگے اور یہ پاکستان آرمی کے ارکان میں سے ہوگا جس کی تنخواہ اور الاؤنسز مقرر کیے جائیں گے۔ترمیم کے تحت وفاقی حکومت فوجی افسر فیلڈ مارشل، ایٔر مارشل یا ایڈمرل چیف کو رینک پرترقی دے گی جس کے بعد وردی، اور مراعات تاحیات رہیں گی جبکہ فیلڈ مارشل، ایٔر مارشل اور ایڈمرل چیف کو بطور قومی ہیروز تصورکیا جائے گا اور تینوں کو آرٹیکل 47 کے بغیر عہدوں سے نہیں ہٹایا جا سکے گا۔ترمیم کے مطابق وفاقی حکومت فیلڈ مارشل، ایٔر مارشل اور ایڈمرل چیف کی ذمہ داریوں اور امور کا تعین کرے گی جبکہ فیلڈ مارشل کو آرٹیکل 248 کے تحت قانونی استثنیٰ حاصل ہوگا۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے صدر مملکت کے تاحیات استثنیٰ سے متعلق آرٹیکل 248 میں ترمیم پیش کی جسے کثرت رائے سے مںظور کرلیا گیا۔ترمیم کے مطابق صدر مملکت کو تاحیات استثنیٰ حاصل ہوگا، عہدے سے سبک دوشی کے باوجود صدر مملکت کے خلاف کسی بھی کیس میں تاحیات کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکے گی۔ترمیم یہ بھی کہا گیا ہے کہ عہدے سے سبک دوشی کے بعد اگر صدر نے کوئی عوامی عہدہ حاصل کیا تو استثنیٰ ختم ہوجائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل ایڈمرل چیف صدر مملکت واک ا و ٹ ترمیم کے ا رٹیکل
پڑھیں:
شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں وفاقی حکومت پر اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگادیا۔
کراچی سے جاری بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں موجودگی اور سرکاری مشینری کا استعمال تشویشناک ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا گو ہوں کہ جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت شفافیت اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہے، الیکشن کےلیے لیول پلینگ فیلڈ ناگزیز ہے۔
پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹونے عوام کو یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی 9 نشستیں چھینی گئی تھیں، پی پی چیئرمین نے عوام سے کہا تھا کہ اپنے ووٹ اور فارم 45 کی حفاظت کریں۔
شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ درست فارم 45 کی موجودگی میں کسی کو عوامی مینڈیٹ چرانے کا موقع نہیں مل سکتا، فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیاد ہے، اسی کے بعد فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔