فیلڈ مارشل کے خلاف بات کرنے والے لوگ گمراہ ہیں: پرویز اشرف کی قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران اپوزیشن کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیئر رہنما راجا پرویز اشرف نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے خلاف بات کرنے والے لوگ گمراہ ہیں۔
27ویں آئینی ترمیم کی سینیٹ سے منظوری کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیا ہے۔ اس دوران پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما راجا پرویز اشرف کی تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شور شرابہ کیا جارہا ہے۔
راجا پرویز اشرف نے کہاکہ آپ جیسے ساتھی ہوں تو دشمن کی ضرورت نہیں، آپ نے عمران خان کو اندر کرا دیا، حالانکہ وہ غیر سیاسی آدمی تھا۔
انہوں نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ اگر آپ گالی دیں گے تو آپ کو جواب بھی ویسا ہی ملے گا۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ایوان کو یرغمال بنا لیں گے تو یہ ممکن نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پرویز اشرف پی ٹی آئی سید عاصم منیر فیلڈ مارشل قومی اسمبلی اجلاس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پرویز اشرف پی ٹی ا ئی فیلڈ مارشل قومی اسمبلی اجلاس پرویز اشرف
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔