طالبان سے دوبارہ بات ہوسکتی ہے، ہم دوستوں کو انکار نہیں کرسکتے: وزیر دفاع خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ طالبان سےدوبارہ بات ہوسکتی ہےکیونکہ ہم اپنے دوستوں کو انکار نہیں کرسکتے۔
خواجہ آصف کا کہناتھاکہ ترکیے حکومت وقوم ہماری محسن ہے، ترکیے وفد ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے، ترکیے اور قطر کے مشکور ہیں۔یہ بات انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
ان کا کہنا تھاکہ ہمارے دوستوں کو کوئی امکان نظرآیاہے تو وہ رابطہ کر رہےہیں تو بات ہوسکتی ہے، اگر ہمارے دوست کابل سےکوئی چیز حاصل کرنےکے بعد آفرکر رہے ہیں تو ہم بھائیوں کوانکار نہیں کرسکتے۔
ان کا کہنا تھاکہ ترک صدر طیب اردوان کی ذاتی دلچسپی کے مشکور ہیں، طالبان زبانی کلامی مسائل مانتےتھےمگر لکھ کردینےکو تیار نہیں تھے، کابل کی حکومت ایک اکائی نہیں ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھاکہ جب کابل میں طالبان کامیاب ہوئے تو میں نےجو بیان دیا اس پرپچھتاوا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔
بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔
اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔