ٹک ٹاکر علینہ عامر کا بابر اعظم کو شادی سے متعلق مشورہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
معروف ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر علینہ عامر نے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم کو شادی سے متعلق مشورہ دیا ہے۔
علینہ عامر سے ایک موقع پر نجی ٹی وی کے رپورٹر نے بابر اعظم کی شادی سے متعلق سوال کیا۔ رپورٹر نے پوچھا کہ ’بابر اعظم کی شادی کی خبریں چل رہی ہیں کیا انہیں کرلینی چاہیے یا پھر اپنے کیریئر پر فوکس رکھنا چاہیے‘۔
علینہ عامر نے کہا کہ شادی کا کوئی وقت مقرر نہیں جب اچھا انسان مل جائے تو شادی کرلینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شادی کیلیے ٹھیک وقت کا انتخاب کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر بابر اعظم کو کوئی اچھا انسان مل گیا ہے انہیں شادی کرلینی چاہیے اور ہر کسی کو اس طرح کرنا چاہیے کیونکہ شادی کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔
علینہ عامر نے قومی ٹیم کے پسندیدہ کھلاڑی کے سوال پر صائم ایوب کی تعریف کی اور کہا کہ وہ اسکور کررہے ہیں مگر کبھی صفر پر آؤٹ ہوتے تو کبھی 100 رنز بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم میں اور بھی کھلاڑی اچھا کھیل رہے ہیں اور یہ سب کچھ کارکردگی پر منحصر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: علینہ عامر نے کہا کہ
پڑھیں:
برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔
وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔
نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔
وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔