35ویں نیشنل گیمز کیلیے سیکورٹی انتظامات کا پلان جاری
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251111-02-14
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو کی زیر صدارت کراچی پولیس آفس میں 35ویں نیشنل گیمز 2025ء کے موقع پر سیکورٹی انتظامات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میںڈی آئی جی ایڈمن، زونل ڈی آئی جیز، ڈی آئی جی سیکورٹی اینڈ ایمرجنسی، ڈی آئی جی ٹریفک، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ سمیت کراچی پولیس کے دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران نیشنل گیمز کے پرامن اور منظم انعقاد کے لیے سیکورٹی پلان، افسران و اہلکاروں کی تعیناتی اور ٹریفک انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی نے اجلاس کے شرکا کو ہدایت کی کہ تمام افسران باہمی روابط اور کوآرڈی نیشن کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور مؤثر ردِعمل یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کھیلوں کے مقامات اور اطراف کے علاقوں میں سخت سیکورٹی انتظامات کیے جائیں جبکہ شرکت کرنے والی ٹیموں، آفیشلز اور انتظامیہ کے رہائشی مقامات و ہوٹلوں میں فول پروف حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ ایڈیشنل آئی جی جاوید عالم اوڈھو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کراچی پولیس قومی سطح کے اس اہم ایونٹ میں اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور نظم و ضبط کے ذریعے امن و امان کی فضا برقرار رکھے گی تاکہ نیشنل گیمز کا انعقاد پُرامن، محفوظ اور کامیاب بنایا جاسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیشنل گیمز ڈی ا ئی جی
پڑھیں:
سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت؛ 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ
کراچی:سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں تفتیشی افسر نے 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ کر لیے۔
سٹی کورٹ نے تفتیش مکمل کرنے کے لیے تفتیشی افسر کو 7 دن کی مہلت دے دی۔
تفتیشی افسر ڈی ایس پی عامر ورک نے عدالت سے کہا کہ بیانات مکمل نہیں ہوئے لہٰذا تفتیش مکمل کرنے کے لیے مہلت دی جائے۔ ایس ایس پی ٹریفک، فائربریگیڈ، سول ڈیفنس اور کے ایم سی افسران کے بیان ریکارڈ کر لیے ہیں۔
مزید پڑھیںسانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ پبلک کرنے کی درخواست مسترد
سانحہ گل پلازہ کیس: سرکاری اداروں نے تعاون نہیں کیا، تفتیشی افسر نے پیشرفت رپورٹ عدالت میں جمع کرادی
تفتیشی افسر کے مطابق فائر بریگیڈ کے اس فائر آفیسر کا بیان ریکارڈ کیا ہے، جو پہلی گاڑی کے ساتھ گل پلازہ پہنچا تھا۔ تنویر پاستا، عمار اسماعیل، امین، رمضان، نعمت اللہ اور 11 سالہ حذیفہ کا بیان پہلے ہی ریکارڈ ہوچکا ہے۔
ڈی ایس پی عامر ورک نے 8 سرکاری اداروں کے سربراہوں کو خطوط لکھے ہیں۔