Jasarat News:
2026-06-03@07:34:45 GMT

عافیہ کی واپسی پر حکومت کی رضا مندی خوش آئند ہے

اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251111-03-3

 

مظفراعجاز

پاکستانی قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے معاملے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، بظاہر ایک روایتی پیشی، روایتی سماعت اور روایتی التوا ہے، ہمارے عدالتی نظام میں بھی ایسا ظلم کا نظام ہے کہ اسے ہی نظام کہا جاتا ہے۔ مقدمہ کسی نوعیت کا ہو، کتنا ہی سنگین ہو، سائل کتنا ہی مظلوم اور مجبور ہو، کبھی جج چھٹی کرجاتا ہے، کبھی ایک وکیل تاریخ بڑھانے کی درخواست کرتا ہے کبھی دوسرا، اور عافیہ کے کیس میں تو سارے مظالم پر مشتمل ظلم ہوا ہے۔ جج بدلنے لارجر بنچ بنانے، بنچ ٹوٹنے، پھر بننے کے بعد اب معمول کے تاخیری نظام کے مطابق سماعت ہوئی اور اس مرتبہ درخواست گزار کا وکیل حاضر نہیں تھا، عدالت نے بہرحال تاریخ دیدی، مگر وکیل سرکار نے اپنے موقف میں جوکچھ کہا ہے اس میں امید کی ایک جھلک ہے، اس نکتے پر غور کریں تو مسئلہ حل۔ بشرطیکہ سرکار کی طرف سے نیک نیتی ہو، وکیل سرکار نے کہا ہے کہ درخواست میں جو استدعائیں کی گئی تھیں وہ تمام پوری ہوچکی ہیں، مان لیتے ہیں کہ کم وبیش ایسا ہی ہے، وکیل نے کہا ہے کہ بس اب امریکی عدالت میں رحم (انسانی بنیادوں پر رہائی) کی اپیل دائر کرنے کا معاملہ زیر غور ہے۔ اور اپیل میں ایسے نکات شامل ہیں جو ریاستی موقف کے خلاف ہیں اس لیے اس صورت میں ریاست اس کی حمایت نہیں کرسکتی۔ اس بیان سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ سرکار انسانی بنیادوں پر عافیہ کی رہائی کے حق میں ہے، بس امریکی عدالت میں پٹیشن کے مندرجات پر اعتراض ہے، تو اس پر تو بات ہوسکتی ہے۔ اور ہونی بھی چاہیے۔

 

عدالت نے درست فیصلہ کیا کہ درخواست گزار کے وکیل کو سن کر مزید کارروائی کی جائے گی، اس نکتے ہی میں اتفاق رائے کا نکتہ بھی ہے، اور وہ یہ کہ سرکار رحم کی اپیل کی موجودہ صورت میں حمایت نہیں کرسکتی۔ لیکن اسے رحم کی اپیل سے تو اختلاف نہیں ہے، تو اگلی سماعت میں جہاں درخواست گزار کے وکیل کو سنا جائے وہیں سرکار سے بھی پوچھا جائے کہ کون سی باتیں ریاستی موقف کے خلاف ہیں۔ ریاست کا موقف تو سرکار اور درخواست گزار دونوں کے لیے یکساں قابل احترام ہے لہٰذا اس پر تو اختلاف نہیں ہونا چاہیے، جو جو چیزیں ریاستی مفاد کے خلاف ہوں انہیں دوطرفہ اتفاق رائے سے خارج کردیا جائے اور ایک مشترکہ مضبوط موقف پر مشتمل اپیل امریکی عدالت میں دائر کی جائے۔

 

یاد رکھیں مضبوط اپیل اسی صورت میں ہوگی جب ریاست اس کی حمایت کرے، کم از کم اب تک ریاست کی جانب سے کھل کر عافیہ سے لاتعلقی تو ظاہر نہیں کی گئی، ہاں ٹال مٹول تو مسلسل جاری ہے، بس ایک ذرا سی کمی ہے وہ ریاستی عزم ہے، اپنی قوم کی بیٹی کو باعزت طور پر ملک واپس لانے کا عزم اور اس کا دوٹوک اظہار ہے، حکومت یہ کمی پوری کرے، اختلافی نکات کی نشاندہی کرے اور متفقہ نکات کی بنیاد پر عافیہ کی رہائی کی اپیل کی جائے۔

 

پاکستان کی تاریخ میں امریکا کو دینے والی چیزوں کی فہرست بڑی طویل ہے، لیکن لینے والی چیزوں کی فہرست نہ ہونے کے برابر ہے، خصوصاً انسان امریکا کے حوالے کرنے کا معاملہ تو یکطرفہ ہے، اب اس معاملے میں حکومت کا اسکور بہتر ہوسکتا ہے، طویل عرصے کے بعد پاکستان اپنے کسی شہری کو امریکا سے مانگ کر اپنا وقار بلند کرسکتا ہے۔ اگلی سماعت میں عدالت بھی سرکار سے استفسار کرے اور درخواست گزار کا وکیل بھی کہ کون کون سی باتیں سرکاری ریاستی موقف کے خلاف ہیں، یہ باتیں سامنے آنے ہی سے رکاوٹیں دور ہوں گی اور ریاست کا وقار افضل لیکن اس کو بچاتے ہوئے بیٹی کو لانے کا راستہ بھی تو اختیار کیا جائے۔ رحم کی اپیل کو سادہ بنایا جائے، عافیہ کی کیفیت، اس کی ذہنی، جسمانی، نفسیاتی صورتحال اور بچوں اور خاندان سے دوری کی بنیاد پر انسانی ہمدردی کی متفقہ اپیل امریکی عدالت میں بھیجی جائے۔ حکومت پاکستان بھی جانتی یے کہ اپیل کی سرکاری حمایت اس اپیل کو مضبوط اور جاندار بنائے گی، اور حمایت نہ کرنے کا مطلب عافیہ سے سرکار کی دستبرداری ہوگی۔ اب فیصلہ ریاست، حکومت اور درخواست گزار کو مل کر قومی مفاد میں کرنا ہے، اور قومی مفاد قوم کی بیٹی کی باعزت واپسی ہی ہے۔ بیٹی قید میں رہے تو، ریاست اور قوم کا وقار بھی مجروح ہوگا۔

 

اگلی سماعت میں ابھی وقت ہے، عدالت عافیہ کے امریکی وکیل، ڈاکٹر فوزیہ، ان کے وکیل اور سرکار کو تمام اختلافی امور ختم کرکے متفقہ پٹیشن تیار کرنے حکم دے سکتی ہے، اس طرح عافیہ سے متعلق حکومتی عدم دلچسپی کا تاثر بھی ختم ہوجائے گا اور عافیہ کا کیس بھی مضبوط ہوجائے گا، لیکن اس سارے معاملے میں سرکار کی طرف سے سنجیدگی اور خلوص کے اظہار کی ضرورت ہوگی، اس کے بغیر معاملہ لٹکا ہی رہے گا۔

مظفر اعجاز.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکی عدالت میں درخواست گزار عافیہ کی کی اپیل کے خلاف

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتالیں غیر قانونی قرار؛ وفاقی آئینی عدالت کا حکم
  • فہد مصطفیٰ نےپنجاب حکومت سے سینما اوقات کار میں نرمی کی اپیل کردی
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے