Jasarat News:
2026-07-24@06:04:42 GMT

عافیہ کی واپسی پر حکومت کی رضا مندی خوش آئند ہے

اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251111-03-3

 

مظفراعجاز

پاکستانی قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے معاملے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، بظاہر ایک روایتی پیشی، روایتی سماعت اور روایتی التوا ہے، ہمارے عدالتی نظام میں بھی ایسا ظلم کا نظام ہے کہ اسے ہی نظام کہا جاتا ہے۔ مقدمہ کسی نوعیت کا ہو، کتنا ہی سنگین ہو، سائل کتنا ہی مظلوم اور مجبور ہو، کبھی جج چھٹی کرجاتا ہے، کبھی ایک وکیل تاریخ بڑھانے کی درخواست کرتا ہے کبھی دوسرا، اور عافیہ کے کیس میں تو سارے مظالم پر مشتمل ظلم ہوا ہے۔ جج بدلنے لارجر بنچ بنانے، بنچ ٹوٹنے، پھر بننے کے بعد اب معمول کے تاخیری نظام کے مطابق سماعت ہوئی اور اس مرتبہ درخواست گزار کا وکیل حاضر نہیں تھا، عدالت نے بہرحال تاریخ دیدی، مگر وکیل سرکار نے اپنے موقف میں جوکچھ کہا ہے اس میں امید کی ایک جھلک ہے، اس نکتے پر غور کریں تو مسئلہ حل۔ بشرطیکہ سرکار کی طرف سے نیک نیتی ہو، وکیل سرکار نے کہا ہے کہ درخواست میں جو استدعائیں کی گئی تھیں وہ تمام پوری ہوچکی ہیں، مان لیتے ہیں کہ کم وبیش ایسا ہی ہے، وکیل نے کہا ہے کہ بس اب امریکی عدالت میں رحم (انسانی بنیادوں پر رہائی) کی اپیل دائر کرنے کا معاملہ زیر غور ہے۔ اور اپیل میں ایسے نکات شامل ہیں جو ریاستی موقف کے خلاف ہیں اس لیے اس صورت میں ریاست اس کی حمایت نہیں کرسکتی۔ اس بیان سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ سرکار انسانی بنیادوں پر عافیہ کی رہائی کے حق میں ہے، بس امریکی عدالت میں پٹیشن کے مندرجات پر اعتراض ہے، تو اس پر تو بات ہوسکتی ہے۔ اور ہونی بھی چاہیے۔

 

عدالت نے درست فیصلہ کیا کہ درخواست گزار کے وکیل کو سن کر مزید کارروائی کی جائے گی، اس نکتے ہی میں اتفاق رائے کا نکتہ بھی ہے، اور وہ یہ کہ سرکار رحم کی اپیل کی موجودہ صورت میں حمایت نہیں کرسکتی۔ لیکن اسے رحم کی اپیل سے تو اختلاف نہیں ہے، تو اگلی سماعت میں جہاں درخواست گزار کے وکیل کو سنا جائے وہیں سرکار سے بھی پوچھا جائے کہ کون سی باتیں ریاستی موقف کے خلاف ہیں۔ ریاست کا موقف تو سرکار اور درخواست گزار دونوں کے لیے یکساں قابل احترام ہے لہٰذا اس پر تو اختلاف نہیں ہونا چاہیے، جو جو چیزیں ریاستی مفاد کے خلاف ہوں انہیں دوطرفہ اتفاق رائے سے خارج کردیا جائے اور ایک مشترکہ مضبوط موقف پر مشتمل اپیل امریکی عدالت میں دائر کی جائے۔

 

یاد رکھیں مضبوط اپیل اسی صورت میں ہوگی جب ریاست اس کی حمایت کرے، کم از کم اب تک ریاست کی جانب سے کھل کر عافیہ سے لاتعلقی تو ظاہر نہیں کی گئی، ہاں ٹال مٹول تو مسلسل جاری ہے، بس ایک ذرا سی کمی ہے وہ ریاستی عزم ہے، اپنی قوم کی بیٹی کو باعزت طور پر ملک واپس لانے کا عزم اور اس کا دوٹوک اظہار ہے، حکومت یہ کمی پوری کرے، اختلافی نکات کی نشاندہی کرے اور متفقہ نکات کی بنیاد پر عافیہ کی رہائی کی اپیل کی جائے۔

 

پاکستان کی تاریخ میں امریکا کو دینے والی چیزوں کی فہرست بڑی طویل ہے، لیکن لینے والی چیزوں کی فہرست نہ ہونے کے برابر ہے، خصوصاً انسان امریکا کے حوالے کرنے کا معاملہ تو یکطرفہ ہے، اب اس معاملے میں حکومت کا اسکور بہتر ہوسکتا ہے، طویل عرصے کے بعد پاکستان اپنے کسی شہری کو امریکا سے مانگ کر اپنا وقار بلند کرسکتا ہے۔ اگلی سماعت میں عدالت بھی سرکار سے استفسار کرے اور درخواست گزار کا وکیل بھی کہ کون کون سی باتیں سرکاری ریاستی موقف کے خلاف ہیں، یہ باتیں سامنے آنے ہی سے رکاوٹیں دور ہوں گی اور ریاست کا وقار افضل لیکن اس کو بچاتے ہوئے بیٹی کو لانے کا راستہ بھی تو اختیار کیا جائے۔ رحم کی اپیل کو سادہ بنایا جائے، عافیہ کی کیفیت، اس کی ذہنی، جسمانی، نفسیاتی صورتحال اور بچوں اور خاندان سے دوری کی بنیاد پر انسانی ہمدردی کی متفقہ اپیل امریکی عدالت میں بھیجی جائے۔ حکومت پاکستان بھی جانتی یے کہ اپیل کی سرکاری حمایت اس اپیل کو مضبوط اور جاندار بنائے گی، اور حمایت نہ کرنے کا مطلب عافیہ سے سرکار کی دستبرداری ہوگی۔ اب فیصلہ ریاست، حکومت اور درخواست گزار کو مل کر قومی مفاد میں کرنا ہے، اور قومی مفاد قوم کی بیٹی کی باعزت واپسی ہی ہے۔ بیٹی قید میں رہے تو، ریاست اور قوم کا وقار بھی مجروح ہوگا۔

 

اگلی سماعت میں ابھی وقت ہے، عدالت عافیہ کے امریکی وکیل، ڈاکٹر فوزیہ، ان کے وکیل اور سرکار کو تمام اختلافی امور ختم کرکے متفقہ پٹیشن تیار کرنے حکم دے سکتی ہے، اس طرح عافیہ سے متعلق حکومتی عدم دلچسپی کا تاثر بھی ختم ہوجائے گا اور عافیہ کا کیس بھی مضبوط ہوجائے گا، لیکن اس سارے معاملے میں سرکار کی طرف سے سنجیدگی اور خلوص کے اظہار کی ضرورت ہوگی، اس کے بغیر معاملہ لٹکا ہی رہے گا۔

مظفر اعجاز.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکی عدالت میں درخواست گزار عافیہ کی کی اپیل کے خلاف

پڑھیں:

پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

راولپنڈی (آئی پی ایس )فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا۔راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز میں 20ویں قومی ورکشاپ کے دوران بلوچستان سے تعلق رکھنے والے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی کوششیں اور عوامی حمایت بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کا باعث بنیں گی، جبکہ امن و استحکام کے لیے فورسز اور عوام کا تعاون ناگزیر ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، انہوں نے دہشتگردی کے بنیادی ڈھانچے کے خاتمے اور پاکستان کے خلاف سرگرم عناصر کے مکمل سدباب کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی سرپرستی میں سرگرم پراکسیز بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم مسلح افواج عوامی حمایت کے ساتھ دشمن کے تمام مذموم عزائم ناکام بنائیں گی۔ فیلڈ مارشل نے دہشتگردی کے خلاف جاری اقدامات اور قومی سلامتی کے لیے اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ اس موقع پر ورکشاپ کے شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی اور خودمختاری کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ اگلی خبرپاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری