Jasarat News:
2026-06-03@06:28:02 GMT

سنو تم ستارے ہو!

اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251111-03-7

 

ایڈووکیٹ مدثر اقبال

ونسٹن چرچل نے کہا تھا کہ مایوس لوگ ہر موقع میں مشکلات تلاش کرتے ہیں اور پر امید لوگ ہر مشکل میں مواقع تلاش کرتے ہیں۔

 

4 دسمبر 1982 کا دن دْشکا اور بورس کے لیے انتہائی کربناک دن تھا۔ وہ دونوں میاں بیوی اس دن صدمے کی حالت کی میں تھے۔ ان کے ہاں اس دن ایک بیٹا پیدا ہوا تھا۔ جی ہاں بیٹا۔ لیکن دْشکا نے اپنے بیٹے کو دیکھ کر ہی منہ پھیر لیا تھا وہ مزید اسے دیکھنا نہیں چاہتی تھی اور بورس جو اپنے بچے کو دیکھ کر ذہنی صدمے کی کیفیت کا شکار ہو چکا تھا۔ اپنے بیٹے کو دیکھتے ہی اسپتال کے باہر کوریڈور میں چلا گیا اسے قے آنا شروع ہو چکی تھی۔ اس کی پیدائش پہ اسپتال کے میٹرنٹی اسٹاف کے عملے پہ مکمل سکوت چھا چکا تھا۔ ڈاکٹر نے اس بچے کو اس کی ماں سے اوجھل کرنا چاہا لیکن وہ ایسا نہ کر سکا۔ اس کی ماں نے ڈاکٹر سے پوچھا کیا بات ہے؟ اس کا باپ اس کے بارے میں متجسس ہوا تو ڈاکٹر نے ان کو جواب دیا معاف کیجیے گا آپ کا بچہ دونوں ٹانگوں سے محروم ہے، شاید وہ اسکول نہ جا سکے۔ مزید وہ دونوں بازوؤں سے بھی محروم ہے شاید وہ لکھ نہ سکے۔ اس کے والدین کی آنکھیں نم تھیں اور وہ شدید تکلیف میں مبتلا ہو چکے تھے۔ وہ بچہ ٹیٹرا ایمیلیا سینڈروم نامی بیماری کا شکار تھا۔ ایک مصنف پاسٹر مچ کے مطابق اس کی والدہ نے چار ماہ تک اسے اپنے ہاتھوں میں نہیں اٹھایا۔ اس بچے کا نام نک ووئی چیچ تھا اور وہ آسٹریلیا میں پیدا ہوا تھا۔ اس کے والدین اپنے آبائی وطن سے ہجرت کر کے اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے آسٹریلیا آ گئے تھے۔

 

انسانی زندگی میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں کہ انسان مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے اسے اپنی زندگی میں ہر سمت اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے۔ روشنی کی امید دور دور تک نظر نہیں آتی۔ زندگی بے رنگ اور بے معنی سی لگنا شروع ہو جاتی ہے اسی طرح جیسے نک کے والدین دْشکا اور بورس کو نک کی پیدائش کے موقع پہ محسوس ہوا۔ لیکن کیا آپ نے قدرت کی کاری گری پہ کبھی غور کیا، کیا آپ نے کائنات کے نظام کو پرکھنے کی کوشش کی۔

 

کیا بنی آدم کی ہر رات ایک صبح کے ساتھ طلوع نہیں ہوتی۔ کیا اندھیرا کا اختتام کبھی اُجالے پہ نہیں ہوا کیا زمین میں بویا بیج مٹی کی حدت کو برداشت کر کے ایک پودے کی شکل نہیں اختیار کر جاتا۔ کبھی ایسا بھی ہوا کہ سمندر میں موجود طلاطم کبھی تھم نہ پایا ہو۔ کیا کبھی ایسا ہوا کے خزاں کے بعد بہار نہ آئی ہو۔ کیا زمانے کا دیا گہرے سے گہرا زخم کبھی مندمل نہیں ہوا۔ یقینا زندگی ایک مشکل سفر ہے لیکن اس کائنات کا پیدا کرنے والا کہتا ہے بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے اور میری رحمت سے کبھی مایوس مت ہونا۔ اگر میں زمین کی تہوں سے کھیتی اُگا سکتا ہوں۔ اگر آسمان کی بلندیوں سے مٹی کے ذروں کو تر سکتا ہوں۔ اگر اندھیرے کو انسان کی راحت کا ساماں قرار دے سکتا ہوں اگر خزاں رسیدہ پتوں کو زمین کی حیات نو کے قابل بنا سکتا ہوں۔ اگر اس بیج کو جو پودا نہ بن سکا زمیں کی زرخیزی اور تونائی کا سبب بنا سکتا ہوں تو یقینا جسے میں نے پیدا کیا اس کے لیے رعنایاں اور روشنائیاں بھی پیدا کر سکتا ہوں۔

 

میں دوبارہ دونوں ٹانگوں اور دونوں بازوؤں سے محروم آسٹریلوی نژاد نک کی طرف کہانی کا رخ موڑتا ہوں۔ نک کی پیدائش پہ اس کے والدین کی پریشانی دیکھی نہیں جاتی تھی وہ اس معذور بچے کو دیکھ کہ مایوسی کا شکار ہو چکے تھے۔ حتیٰ کہ نک کی زندگی میں جب وہ دس سال کا تھا ایک ایسا بھی وقت آتا ہے جب وہ خود بھی خودکشی کرنے کا سوچتا ہے۔ جب اسے اسکول میں داخل کرایا گیا تو اس کے کلاس فیلوز نے اس کا مذاق اُڑایا اس پہ جملے کسے اسے اس کی معذوری کے طعنے دیے۔ وہ مایوسی کا شکار ہوا وہ ڈپریشن میں چلا گیا۔ پھر وقت کا دھارا بدلتا ہے سوچ کے زاویے تبدیل ہوتے ہیں نک کے والدین قدرت کی کاری گری پہ راضی ہونا شروع ہو گئے انہوں نے آہستہ آہستہ نک کو قبول کرنا شروع کیا۔ اور اس کی پرورش میں مگن ہو گئے۔

 

وہ بچہ جو بنا بازوؤں اور ٹانگوں کے پیدا ہوا وہ وقت کے دھاروں کو چیرتے ہوئے ایک دن پینٹر، مصنف، تیراک، غوطہ خور، اسکائی ڈائیور اور موٹیویشنل اسپیکر بن جاتا ہے۔ ٹھیک 38 سال گزرنے کے بعد، نِک وْوئی چیچ (Voo-yi-chich) دنیا کے سب سے زیادہ متاثر کن عوامی مقررین میں سے ایک مقرر بن جاتا ہے اور وہ اپنی کہانی 74 مختلف ممالک میں 85 لاکھ سے زائد لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے۔ دونوں بازوں اور ٹانگوں سے محروم وہ لڑکا بیسٹ سیلنگ مصنف، ایک باپ، ایک شوہر، ایک ایسا شخص بن کر ابھرتا ہے جو غیر معمولی انسان ہے۔ یہ وہ بچہ ہے جس نے اپنی باتوں اور عمل سے دنیا بھر کے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں میں رنگ بھرے انہیں یہ پیغام دیا کہ دنیا میں جو کوشش کرتے ہیں جو اپنے پختہ عزائم کے ساتھ مقاصد کا تعین کرتے ہیں وہ اپنی منزلوں کی بلندیوں کو چھوتے ہیں۔

 

نک نے لائف ودآؤٹ لمز کے نام سے 2005 میں ایک تنظیم بھی قائم کی جو اس کی کامیابیوں کی روشن مثال ہے۔ وہ ایک مختصر فلم دی بٹرفلائی سرکس میں اپنی شاندار کارکردگی کی بنیاد پہ بیسٹ ایکٹر آف شارٹ فلمز کا ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں۔ ایک ایسا بچہ جو بچپن ہی سے ناروا سلوک کا شکار تھا وہ بچہ بڑا ہو کر 2005 میں ینگ آسٹریلین آف دی ائر ایوارڈ کے لیے نامزد ہوتا ہے گرفتھ یونیورسٹی آسٹریلیا سے بیچلر آف کامرس کی دگری بھی حاصل کرتا ہے۔ وہ امید عزم، ہمت استقامت، جوش، ولولہ، فکر جیسی صفتوں سے مزین ہے۔ وہ آج کے مایوس نوجوان کے لیے مینارہ نور ہے۔ وہ ایک سراب نہیں بلکہ زندہ حقیقت ہے۔ ایسی حقیقت جسے چاہ کر بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا نک اپنی منزلوں کا مسافر ہے چاہے یہ منزلیں کتنی ہی کٹھن اور دشوار ہی کیوں نہ ہوں۔ وہ بچہ جو دونوں بازوؤں سے محروم ہے وہ کئی شاہکار اور متاثر کن کتابوں کا مصنف ہے جو قارئین کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہیں۔ جن میں

 

Life Without Limits, Unstoppable, Love Without Limits, Stand Strong, Be the Hands and Feet, Champions for the Brokenhearted (upcoming)

 

بدقسمتی سے پاکستان میں آج کا نوجوان ڈپریشن، مایوسی اور خود ساختہ عقلی پسماندگی جیسے مسائل کا شکار ہے۔ وہ منزل تک پہنچنے کی جستجو کیے بنا ہی اپنا توازن کھو دیتا ہے۔ وہ راستوں کی دشواریوں کا سامنا کرنے سے کترانے لگ گیا ہے اپنی ہمت، عزم اور حوصلے کو یکجا کیے بنا ہی منزل پالینے کی خواہشات کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے بیٹھا ہے۔

 

جرنل آف کلینیکل اینڈ ڈائگنوسٹک ریسرچ کی ایک رپورٹ کے مطابق موجودہ دور میں پاکستان میں 40 فی صد نوجوان ڈپریشن کا شکار ہیں۔ اور یہ صورتحال انتہائی خوفناک اور تشویش کا باعث ہے۔ ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو ایسی سمت کی جانب گامزن کرنا ہو گا جو حوصلہ افزائی کو فروغ دینے میں ممدو معاون ثابت ہو اور معاشرے میں موجود ایسے عوامل جو نوجوان نسل کی حوصلہ شکنی اور ان کے جذبات کی تخریب کا باعث بنیں ان کی نشاندہی کر کے ان کی بیخ کنی کرنی ہو گی اور مثبت رویوں کو پروان چڑھانا ہو گا۔ ہمیں ایسے سیمینار اور ورکشاپس کا انعقاد کر کے نوجوان نسل کو نک ووئی چیچ، مفتاع الغانم اور زیان کلارک جیسے دونوں ٹانگوں سے محروم افق پہ چمکتے تاروں کی مانند، ہیروں کے بارے میں بتانا ہو گا ہمیں نوجوان نسل کو یوسین بولٹ جیسے کرداروں کا بتانا ہو گا جو ایک ٹانگ کے چھوٹا ہونے کے باوجود دنیا کے تیز ترین اتھلیٹ بن جاتے ہیں۔

 

ہمیں یہ باور کروانا ہو گا کہ اگر اندھیرے ہیں تو بھی وہ آپ کی تسکین کا باعث بن سکتے ہیں آپ کی راحت کا سامان مہیا کر سکتے ہیں۔ ہمیں مایوسیوں میں گھرے لوگوں کو یہ سمجھانا ہے کہ جو بیج درخت نہ بن سکے مٹی کو غذائیت فراہم کرتا ہے اور جو پتا خزاں کے موسم میں شجر سے گر جائے وہ زمین کی زرخیزی کا باعث بن جاتا ہے۔ وہ پانی جو کڑوا ہونے کی بنا پہ پیا نہ جا سکے وہ آپ کو آپ کے زندہ رہنے کے لیے آدھی آکسیجن مہیا کر جاتا ہے۔

 

آپ کی اینگزائٹی، آپ کی ڈپریشن، آپ کے غم کا علاج آپ کی امید آپ کی مسکراہٹ اور آپ کے قہقہے ہیں جس طرح خوراک سے پیدا شدہ بیماری کا علاج، فاقہ اور روزہ ہے، جیسے گندگی سے پیدا ہونے والی بیماری کا علاج صفائی میں پوشیدہ ہے۔ زندگی نشیب و فراز ہی کا نام ہے اور اس کی معراج بھی یہی ہے کہ نشیب کے وقت فراز کی سمت جست لگانے کی سعی کی جائے۔ آپ اُفق پہ موجود اس ستارے کی مانند ہیں جو دور ہی سے روشن دکھائی دیاور زندگی کو رنگ او ر رعنائی فراہم کرے۔ لہٰذا سنو! تم ستارے ہو۔

 

اگر جو برق گرے لاکھ جو آندھیاں چلیں

میری منزل ہے آسمان مجھے ٹھوکروں سے گلہ نہیں

 

ایڈووکیٹ مدثر اقبال.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کا شکار ہو کے والدین سکتا ہوں کرتے ہیں کا باعث جاتا ہے بازوو ں وہ بچہ ہے اور کے لیے

پڑھیں:

جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟

اسلام ٹائمز: اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ تحریر: سید محمد

کسی پرانے جوئے خانے کی ایک کہاوت مشہور ہے "تم اس وقت تک حقیقتاً نہیں پھنستے جب تک تمہیں یہ احساس نہ ہو جائے کہ باہر نکلنے کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔" مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاسی بساط پر اسرائیل یہی کھیل کھیل رہا ہے۔ ظاہری بیانیے کو ایک طرف رکھیں تو ایک واضح حقیقت سامنے آتی ہے: اسرائیل ایران کی ایٹمی صلاحیت یا میزائل پروگرام سے کم اور امریکی انخلا کے محض امکان سے زیادہ خوفزدہ ہے۔ یہ خوف کوئی معمولی تشویش نہیں بلکہ ایک ایسی وحشت ہے، جو اسرائیلی حکمتِ عملی کے ہر پہلو کو تشکیل دے رہی ہے۔

اسرائیل ہر اس راستے کو سبوتاژ کرتا دکھائی دیتا ہے، جو واشنگٹن کو بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کرسکے۔ یہاں جنگ کا مقصد دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ اتحادی کو اس حد تک اندر کھینچ لینا ہے کہ وہ خود جنگ کا قیدی بن جائے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ اس تنازعے میں شریک رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس حد تک شریک ہو جائے کہ بعد میں الگ نہ ہوسکے۔ یہ حکمتِ عملی ایک نفسیاتی اور سیاسی جال کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ابتدا ہی سے اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کی طرف دھکیلا اور ٹرمپ اپنی طاقت اور امریکی بالادستی کے تصور میں اس قدر گرفتار رہا کہ اسے واپسی کا راستہ دکھائی نہ دیا۔

ایران اور مزاحمتی محاذ کی استقامت نے امریکی عسکری برتری کے اُس طلسم کو چیلنج کر دیا، جسے دہائیوں سے ناقابلِ شکست تصور کیا جاتا تھا۔ اربوں ڈالر کے دفاعی نظام، جدید ٹیکنالوجی اور وسیع عسکری اتحاد بھی خطے میں پیدا ہونے والی نئی بے یقینی کو روک نہ سکے، جبکہ امریکی دفاعی چھتری اور اڈوں کی محدودیت پہلے سے زیادہ نمایاں ہوگئی۔ اسی میدان میں اہداف کا مسلسل سکڑنا بھی صورتِ حال کا مظہر تھا۔ ایران میں رجیم تبدیلی جیسے بڑے ہدف سے شروع ہونے والا معرکہ بلاشرط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے، دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے اور بالآخر آبنائے ہرمز کو کھلوانے جیسے محدود اہداف تک سمٹ آیا، جبکہ امریکی دھمکیاں بھی بتدریج ایرانی سویلین انفراسٹرکچر اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے تک گر آئیں۔

اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ دوسری طرف سفارتی اخراج کا راستہ تھا، مگر یہاں بھی مسئلہ یہ تھا کہ اسرائیل جس صف بندی کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے، وہی امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے لیے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتی تھی۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر خلیجی ریاستیں اپنی معیشتوں، توانائی کی تنصیبات اور سرمایہ کاری کے مراکز کے باعث براہِ راست خطرات سے دوچار ہوسکتی تھیں۔ اسی لیے وہ ایسے راستوں کی تلاش میں تھیں، جو ضروری نہیں کہ اسرائیل کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں۔ آج اگر امریکہ اپنے مفادات کے لیے واپس چلا جاتا ہے تو اسرائیل تنہا رہ جاتا ہے، لیکن اگر پورا امریکی وقار، افواج اور سیاسی سرمایہ اس جنگ سے جڑ جائے تو واشنگٹن کے لیے اسرائیل سے فاصلہ اختیار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

روایتی جنگوں کا مقصد دشمن کو شکست دینا ہوتا ہے، لیکن اسرائیل نے جنگ کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، جس کا نشانہ دشمن نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا اتحادی یعنی امریکہ ہے۔ لبنان کا محاذ بھی اب صرف میدانِ جنگ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سفارتی عمل کو متاثر کرنے کا ایک مؤثر آلہ بن چکا ہے۔ جب بھی مذاکرات یا کشیدگی میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، لبنان دوبارہ مرکزِ توجہ بن جاتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ یا سست کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچ جاتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ خطے کے اہم معاملات اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کے بغیر بھی طے ہوسکتے ہیں اور یہی وہ تاثر ہے، جسے اسرائیل ٹوٹنے نہیں دینا چاہتا۔

بعض ریاستوں کے لیے مستقل بحران خود ایک قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔ جاری کشیدگی اتحادیوں کو متحد اور سکیورٹی خدشات کو زندہ رکھتی ہے۔ اسرائیل کے لیے فوری امن یا جامع سیاسی تصفیہ شاید اتنا مفید نہیں جتنا ایک ایسا کنٹرولڈ بحران جو مسلسل مغربی حمایت اور علاقائی توجہ کو اس کی طرف کھینچے رکھے۔ یہ تمام عوامل امریکہ کو ایک غیر معمولی اسٹریٹجک دباؤ کے دائرے میں دھکیل چکے ہیں۔ ایک طرف ایران کی ایسی مزاحمت ہے، جو کسی حتمی فوجی حل کو ناممکن بناتی ہے، دوسری طرف اسرائیل کی خواہش ہے کہ واشنگٹن مکمل طور پر بحران میں جکڑا رہے، جبکہ تیسری طرف علاقائی اتحادی کشیدگی میں کمی چاہیتے ہیں تاکہ ان کی معیشتیں اور داخلی استحکام محفوظ رہ سکیں۔ نتیجتاً امریکہ ایک ایسی پوزیشن میں کھڑا ہے، جہاں آگے بڑھنا بھی خطرناک ہے، پیچھے ہٹنا بھی مشکل اور جمود بھی اتحادیوں کے اعتماد کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ بعض اوقات ان کی سب سے بڑی کامیابی مخالف اتحاد کے اندر موجود تضادات، کمزوریوں اور متصادم مفادات کو بے نقاب کرنے اور اس کے سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹجک ڈھانچے میں دراڑیں نمایاں کرنے میں ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حماقت سے نارملائزیشن فریم ورک کو شدید دھچکا پہنچنے کے باوجود، سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور اردن جیسے ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور واضح سیاسی صف بندی کے لیے دباؤ بڑھانا بھی قابلِ توجہ ہے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک سے ایک ایسے بحران میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ عسکری، معاشی اور سیاسی نتائج کا بوجھ بھی انہیں خود اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق