data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251111-03-7
ایڈووکیٹ مدثر اقبال
ونسٹن چرچل نے کہا تھا کہ مایوس لوگ ہر موقع میں مشکلات تلاش کرتے ہیں اور پر امید لوگ ہر مشکل میں مواقع تلاش کرتے ہیں۔
4 دسمبر 1982 کا دن دْشکا اور بورس کے لیے انتہائی کربناک دن تھا۔ وہ دونوں میاں بیوی اس دن صدمے کی حالت کی میں تھے۔ ان کے ہاں اس دن ایک بیٹا پیدا ہوا تھا۔ جی ہاں بیٹا۔ لیکن دْشکا نے اپنے بیٹے کو دیکھ کر ہی منہ پھیر لیا تھا وہ مزید اسے دیکھنا نہیں چاہتی تھی اور بورس جو اپنے بچے کو دیکھ کر ذہنی صدمے کی کیفیت کا شکار ہو چکا تھا۔ اپنے بیٹے کو دیکھتے ہی اسپتال کے باہر کوریڈور میں چلا گیا اسے قے آنا شروع ہو چکی تھی۔ اس کی پیدائش پہ اسپتال کے میٹرنٹی اسٹاف کے عملے پہ مکمل سکوت چھا چکا تھا۔ ڈاکٹر نے اس بچے کو اس کی ماں سے اوجھل کرنا چاہا لیکن وہ ایسا نہ کر سکا۔ اس کی ماں نے ڈاکٹر سے پوچھا کیا بات ہے؟ اس کا باپ اس کے بارے میں متجسس ہوا تو ڈاکٹر نے ان کو جواب دیا معاف کیجیے گا آپ کا بچہ دونوں ٹانگوں سے محروم ہے، شاید وہ اسکول نہ جا سکے۔ مزید وہ دونوں بازوؤں سے بھی محروم ہے شاید وہ لکھ نہ سکے۔ اس کے والدین کی آنکھیں نم تھیں اور وہ شدید تکلیف میں مبتلا ہو چکے تھے۔ وہ بچہ ٹیٹرا ایمیلیا سینڈروم نامی بیماری کا شکار تھا۔ ایک مصنف پاسٹر مچ کے مطابق اس کی والدہ نے چار ماہ تک اسے اپنے ہاتھوں میں نہیں اٹھایا۔ اس بچے کا نام نک ووئی چیچ تھا اور وہ آسٹریلیا میں پیدا ہوا تھا۔ اس کے والدین اپنے آبائی وطن سے ہجرت کر کے اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے آسٹریلیا آ گئے تھے۔
انسانی زندگی میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں کہ انسان مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے اسے اپنی زندگی میں ہر سمت اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے۔ روشنی کی امید دور دور تک نظر نہیں آتی۔ زندگی بے رنگ اور بے معنی سی لگنا شروع ہو جاتی ہے اسی طرح جیسے نک کے والدین دْشکا اور بورس کو نک کی پیدائش کے موقع پہ محسوس ہوا۔ لیکن کیا آپ نے قدرت کی کاری گری پہ کبھی غور کیا، کیا آپ نے کائنات کے نظام کو پرکھنے کی کوشش کی۔
کیا بنی آدم کی ہر رات ایک صبح کے ساتھ طلوع نہیں ہوتی۔ کیا اندھیرا کا اختتام کبھی اُجالے پہ نہیں ہوا کیا زمین میں بویا بیج مٹی کی حدت کو برداشت کر کے ایک پودے کی شکل نہیں اختیار کر جاتا۔ کبھی ایسا بھی ہوا کہ سمندر میں موجود طلاطم کبھی تھم نہ پایا ہو۔ کیا کبھی ایسا ہوا کے خزاں کے بعد بہار نہ آئی ہو۔ کیا زمانے کا دیا گہرے سے گہرا زخم کبھی مندمل نہیں ہوا۔ یقینا زندگی ایک مشکل سفر ہے لیکن اس کائنات کا پیدا کرنے والا کہتا ہے بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے اور میری رحمت سے کبھی مایوس مت ہونا۔ اگر میں زمین کی تہوں سے کھیتی اُگا سکتا ہوں۔ اگر آسمان کی بلندیوں سے مٹی کے ذروں کو تر سکتا ہوں۔ اگر اندھیرے کو انسان کی راحت کا ساماں قرار دے سکتا ہوں اگر خزاں رسیدہ پتوں کو زمین کی حیات نو کے قابل بنا سکتا ہوں۔ اگر اس بیج کو جو پودا نہ بن سکا زمیں کی زرخیزی اور تونائی کا سبب بنا سکتا ہوں تو یقینا جسے میں نے پیدا کیا اس کے لیے رعنایاں اور روشنائیاں بھی پیدا کر سکتا ہوں۔
میں دوبارہ دونوں ٹانگوں اور دونوں بازوؤں سے محروم آسٹریلوی نژاد نک کی طرف کہانی کا رخ موڑتا ہوں۔ نک کی پیدائش پہ اس کے والدین کی پریشانی دیکھی نہیں جاتی تھی وہ اس معذور بچے کو دیکھ کہ مایوسی کا شکار ہو چکے تھے۔ حتیٰ کہ نک کی زندگی میں جب وہ دس سال کا تھا ایک ایسا بھی وقت آتا ہے جب وہ خود بھی خودکشی کرنے کا سوچتا ہے۔ جب اسے اسکول میں داخل کرایا گیا تو اس کے کلاس فیلوز نے اس کا مذاق اُڑایا اس پہ جملے کسے اسے اس کی معذوری کے طعنے دیے۔ وہ مایوسی کا شکار ہوا وہ ڈپریشن میں چلا گیا۔ پھر وقت کا دھارا بدلتا ہے سوچ کے زاویے تبدیل ہوتے ہیں نک کے والدین قدرت کی کاری گری پہ راضی ہونا شروع ہو گئے انہوں نے آہستہ آہستہ نک کو قبول کرنا شروع کیا۔ اور اس کی پرورش میں مگن ہو گئے۔
وہ بچہ جو بنا بازوؤں اور ٹانگوں کے پیدا ہوا وہ وقت کے دھاروں کو چیرتے ہوئے ایک دن پینٹر، مصنف، تیراک، غوطہ خور، اسکائی ڈائیور اور موٹیویشنل اسپیکر بن جاتا ہے۔ ٹھیک 38 سال گزرنے کے بعد، نِک وْوئی چیچ (Voo-yi-chich) دنیا کے سب سے زیادہ متاثر کن عوامی مقررین میں سے ایک مقرر بن جاتا ہے اور وہ اپنی کہانی 74 مختلف ممالک میں 85 لاکھ سے زائد لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے۔ دونوں بازوں اور ٹانگوں سے محروم وہ لڑکا بیسٹ سیلنگ مصنف، ایک باپ، ایک شوہر، ایک ایسا شخص بن کر ابھرتا ہے جو غیر معمولی انسان ہے۔ یہ وہ بچہ ہے جس نے اپنی باتوں اور عمل سے دنیا بھر کے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں میں رنگ بھرے انہیں یہ پیغام دیا کہ دنیا میں جو کوشش کرتے ہیں جو اپنے پختہ عزائم کے ساتھ مقاصد کا تعین کرتے ہیں وہ اپنی منزلوں کی بلندیوں کو چھوتے ہیں۔
نک نے لائف ودآؤٹ لمز کے نام سے 2005 میں ایک تنظیم بھی قائم کی جو اس کی کامیابیوں کی روشن مثال ہے۔ وہ ایک مختصر فلم دی بٹرفلائی سرکس میں اپنی شاندار کارکردگی کی بنیاد پہ بیسٹ ایکٹر آف شارٹ فلمز کا ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں۔ ایک ایسا بچہ جو بچپن ہی سے ناروا سلوک کا شکار تھا وہ بچہ بڑا ہو کر 2005 میں ینگ آسٹریلین آف دی ائر ایوارڈ کے لیے نامزد ہوتا ہے گرفتھ یونیورسٹی آسٹریلیا سے بیچلر آف کامرس کی دگری بھی حاصل کرتا ہے۔ وہ امید عزم، ہمت استقامت، جوش، ولولہ، فکر جیسی صفتوں سے مزین ہے۔ وہ آج کے مایوس نوجوان کے لیے مینارہ نور ہے۔ وہ ایک سراب نہیں بلکہ زندہ حقیقت ہے۔ ایسی حقیقت جسے چاہ کر بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا نک اپنی منزلوں کا مسافر ہے چاہے یہ منزلیں کتنی ہی کٹھن اور دشوار ہی کیوں نہ ہوں۔ وہ بچہ جو دونوں بازوؤں سے محروم ہے وہ کئی شاہکار اور متاثر کن کتابوں کا مصنف ہے جو قارئین کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہیں۔ جن میں
Life Without Limits, Unstoppable, Love Without Limits, Stand Strong, Be the Hands and Feet, Champions for the Brokenhearted (upcoming)
بدقسمتی سے پاکستان میں آج کا نوجوان ڈپریشن، مایوسی اور خود ساختہ عقلی پسماندگی جیسے مسائل کا شکار ہے۔ وہ منزل تک پہنچنے کی جستجو کیے بنا ہی اپنا توازن کھو دیتا ہے۔ وہ راستوں کی دشواریوں کا سامنا کرنے سے کترانے لگ گیا ہے اپنی ہمت، عزم اور حوصلے کو یکجا کیے بنا ہی منزل پالینے کی خواہشات کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے بیٹھا ہے۔
جرنل آف کلینیکل اینڈ ڈائگنوسٹک ریسرچ کی ایک رپورٹ کے مطابق موجودہ دور میں پاکستان میں 40 فی صد نوجوان ڈپریشن کا شکار ہیں۔ اور یہ صورتحال انتہائی خوفناک اور تشویش کا باعث ہے۔ ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو ایسی سمت کی جانب گامزن کرنا ہو گا جو حوصلہ افزائی کو فروغ دینے میں ممدو معاون ثابت ہو اور معاشرے میں موجود ایسے عوامل جو نوجوان نسل کی حوصلہ شکنی اور ان کے جذبات کی تخریب کا باعث بنیں ان کی نشاندہی کر کے ان کی بیخ کنی کرنی ہو گی اور مثبت رویوں کو پروان چڑھانا ہو گا۔ ہمیں ایسے سیمینار اور ورکشاپس کا انعقاد کر کے نوجوان نسل کو نک ووئی چیچ، مفتاع الغانم اور زیان کلارک جیسے دونوں ٹانگوں سے محروم افق پہ چمکتے تاروں کی مانند، ہیروں کے بارے میں بتانا ہو گا ہمیں نوجوان نسل کو یوسین بولٹ جیسے کرداروں کا بتانا ہو گا جو ایک ٹانگ کے چھوٹا ہونے کے باوجود دنیا کے تیز ترین اتھلیٹ بن جاتے ہیں۔
ہمیں یہ باور کروانا ہو گا کہ اگر اندھیرے ہیں تو بھی وہ آپ کی تسکین کا باعث بن سکتے ہیں آپ کی راحت کا سامان مہیا کر سکتے ہیں۔ ہمیں مایوسیوں میں گھرے لوگوں کو یہ سمجھانا ہے کہ جو بیج درخت نہ بن سکے مٹی کو غذائیت فراہم کرتا ہے اور جو پتا خزاں کے موسم میں شجر سے گر جائے وہ زمین کی زرخیزی کا باعث بن جاتا ہے۔ وہ پانی جو کڑوا ہونے کی بنا پہ پیا نہ جا سکے وہ آپ کو آپ کے زندہ رہنے کے لیے آدھی آکسیجن مہیا کر جاتا ہے۔
آپ کی اینگزائٹی، آپ کی ڈپریشن، آپ کے غم کا علاج آپ کی امید آپ کی مسکراہٹ اور آپ کے قہقہے ہیں جس طرح خوراک سے پیدا شدہ بیماری کا علاج، فاقہ اور روزہ ہے، جیسے گندگی سے پیدا ہونے والی بیماری کا علاج صفائی میں پوشیدہ ہے۔ زندگی نشیب و فراز ہی کا نام ہے اور اس کی معراج بھی یہی ہے کہ نشیب کے وقت فراز کی سمت جست لگانے کی سعی کی جائے۔ آپ اُفق پہ موجود اس ستارے کی مانند ہیں جو دور ہی سے روشن دکھائی دیاور زندگی کو رنگ او ر رعنائی فراہم کرے۔ لہٰذا سنو! تم ستارے ہو۔
اگر جو برق گرے لاکھ جو آندھیاں چلیں
میری منزل ہے آسمان مجھے ٹھوکروں سے گلہ نہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا شکار ہو کے والدین سکتا ہوں کرتے ہیں کا باعث جاتا ہے بازوو ں وہ بچہ ہے اور کے لیے
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔