نوجوان عرفان کی ہلاکت کا معاملہ‘نئے مقدمات پرفریقین کونوٹس
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251111-02-15
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ میںپولیس حراست میں نوجوان عرفان کی ہلاکت کا معاملہ،عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کردیئے۔گرفتار پولیس افسر اے ایس آئی عابد شاہ کی ایف آئی اے کی جانب سے درج نئے مقدمے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔جہان عدالت نے درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کردیے،فریقین سے 18 نومبر تک جواب طلب کرلیا درخواست گزار کاکہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے مطابق ایک واقعے کے ایک سے زائد مقدمات درج نہیں کئے جاسکتے، ایف آئی اے نے سپریم کورٹ کے حکم کے برعکس دوسرا مقدمہ درج کیا ہے، سپریم کورٹ نے 2018 میں بھی قرار دیا تھا کہ ایک وقوعے کی ایک ہی ایف آئی آر درج ہوگی،سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مزید مواد کی صورت میں بھی نیا مقدمہ نہیں بلکہ اصل مقدمے میں شامل کیا جائے گا، یہاں جس کو دیکھو دوسری ایف آئی آر درج کررہا ہے، پہلے مقدمے کا تفتیشی افسر دوسرے مقدمے کا مدعی بن گیا ہے، درخواست میں متاثرہ فریق کو شامل نہیں کیا گیا، جبران ناصر کی مقتول کے اہل خانہ کی جانب سے درخواست میں فریق بننے کی استدعا کی گئی جس پر عدالت کاکہنا تھا کہ فی الوقت ہم نے فریقین کو نوٹس جاری کئے ہیں، کیس آگے چلے گا تو آپ کی درخواست کو بھی دیکھ لینگے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ فریقین کو ایف ا ئی ا
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔