سری لنکا سے سیریز، حسن نواز ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گے، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
پاکستان ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے کہا ہے کہ سری لنکا کے خلاف سیریز میں حسن نواز ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گے۔
جنوبی افریقا سے ون ڈے سیریز کی فتح کے بعد پریس کانفرنس میں مائیک ہیسن نے کہا کہ بابر اعظم آؤٹ آف فارم نہیں ہیں، بدقسمتی سے آج وہ رن آؤٹ ہوئے اور اس کا تعلق فارم سے نہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی بابر اعظم اچھے ٹچ میں لگ رہے تھے پریشر کو اچھا ہینڈل کیا، امید ہے وہ آنے والی سیریز میں رنز کریں گے۔
ہیڈ کوچ نے مزید کہا کہ جیت کا کریڈ ٹ کپتان شاہین آفریدی کو دینا چاہیے، انہوں نے اچھی کپتانی کی، کنڈیشنز سمجھ کر بولنگ میں اچھی تبدیلیاں کیں۔ بابر اعظم اور صائم ایوب نے پریشر کو اچھے طریقے سے ہینڈل کیا۔
مائیک ہیسن نے یہ بھی کہا کہ سری لنکا کے خلاف عبدالصمد کو اسکواڈ میں شامل کیا جائے گا۔ وہ ہانگ کانگ سکسز میں شرکت کے بعد اسکواڈ کو جوائن کریں گے، سر ی لنکا کے خلاف ٹیم میں تبدیلی ہوگی، سیریز میں حسن نواز نہیں ہوں گے، وہ فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلیں، اچھے کھلاڑی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مائیک ہیسن
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔