وزیراعظم کی سینیٹ میں پیش کی گئی غیرمنظور شدہ ترمیمی شق واپس لینے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
وزیراعظم کی سینیٹ میں پیش کی گئی غیرمنظور شدہ ترمیمی شق واپس لینے کی ہدایت WhatsAppFacebookTwitter 0 9 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آذربائیجان سے واپسی پر انہیں اطلاع ملی کہ ان کی جماعت کے چند سینیٹرز نے وزیراعظم کے استثنیٰ سے متعلق ایک ترمیمی شق سینیٹ میں پیش کی، جو کابینہ سے منظور شدہ مسودے کا حصہ نہیں تھی۔
آذربائیجان سے واپسی پر مجھے بتایا گیا ہے کہ میری پارٹی کے چند سینیٹرز نے وزیراعظم کے استثنیٰ کے حوالے سے ترمیمی شق سینیٹ میں پیش کی جو کابینہ سے منظور شدہ مسودے میں شامل نہیں تھی۔ معزز سینیٹرز کے خلوص کا شکریہ ادا کرتے ہوئے، میں نے انہیں یہ ترمیم فی الفور واپس لینے کی ہدایت کی… https://t.
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ وہ معزز سینیٹرز کے خلوص اور نیک نیتی کی قدر کرتے ہیں، تاہم انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ یہ ترمیم فی الفور واپس لی جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایک منتخب وزیراعظم قانون اور عوام دونوں کی عدالت میں جوابدہ ہوتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچودھری شجاعت سے جرمن سفیر کی ملاقات، دوطرفہ تجارت کیلئے عملی اقدامات پر زور چودھری شجاعت سے جرمن سفیر کی ملاقات، دوطرفہ تجارت کیلئے عملی اقدامات پر زور غزہ سے کشمیر تک ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، متحد ہونا پڑے گا: خواجہ آصف پنجاب میں سموگ کا روگ برقرار، شہر لاہور کی فضا آج بھی آلودہ امریکی جج کا بڑا فیصلہ: ٹرمپ کا نیشنل گارڈ کو پورٹ لینڈ بھیجنے کا حکم غیر قانونی قرار علامہ اقبالؒ کا فکری ورثہ آنے والی نسلوں کیلئے مشعلِ راہ رہے گا، صدرِ مملکت جعلسازی سے پاکستانی شہریت حاصل کرنے کی کوشش، افغان شہری سمیت 4 ملزمان گرفتارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سینیٹ میں پیش کی
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔