چیٹ جی پی ٹی کا نیا فیچر جو آپ کیلئے بہت زیادہ کارآمد ثابت ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
اکثر ایسا ہوتا ہے جب چیٹ جی پی ٹی میں کوئی پروموٹ یا ہدایت انٹر کی جاتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ کچھ تفصیلات کو شامل کرنا بھول گئے ہیں یا غلط جملہ کاپی پیسٹ کر دیا ہے۔
مگر اب اوپن اے آئی نے اس حوالے سے ایک بہترین فیچر صارفین کے لیے متعارف کرایا ہے۔
آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) چیٹ بوٹ میں اب اس مسئلے کا حل پیش کیا گیا ہے۔
اب آپ چیٹ بوٹ کو اس کے جواب کے دوران روک سکیں گے۔
اس وقت جب اے آئی چیٹ بوٹ جواب کو تیار کر رہا ہوتا ہے، اس وقت آپ نئی تفصیلات کو شامل کرسکتے ہیں۔
آسان الفاظ میں آپ رئیل ٹائم میں اب چیٹ جی پی ٹی سے گفتگو کر سکتے ہیں۔
اس کے لیے چیٹ جی پی ٹی کی سائیڈ بار میں اپ ڈیٹ پر کلک کرکے نئے تناظر یا وضاحت کا اضافہ کرنا ہوگا اور اے آئی چیٹ بوٹ اس کے مطابق اپنے ردعمل کو تبدیل کرلے گا۔
یعنی آپ کو دوبارہ سے اپنے سوال کو مکمل ٹائپ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ آپ چیٹ جی پی ٹی کو رئیل ٹائم میں جواب بدلنے پر مجبور کرسکیں گے۔
اس سے ان افراد کو کافی زیادہ وقت بچانے میں مدد ملے گی جو چیٹ جی پی ٹی سے تفصیلی یا کئی نکات پر مشتمل سوالات کے جوابات چاہتے ہیں۔
یہ بظاہر معمولی محسوس ہوتا ہے مگر یہ صارفین کے لیے بہت زیادہ مددگار ثابت ہوگا، خاص طور پر اس سروس کو مفت استعمال کرنے والے افراد کے لیے۔
چیٹ جی پی ٹی مفت استعمال کرنے والے افراد کو یہ چیٹ بوٹ محدود تعداد میں ڈیپ ریسرچ کے تحت جوابات فراہم کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی ہوتا ہے چیٹ بوٹ اے آئی کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔