بھارت میں منی لانڈرنگ اور قرضوں کے غلط استعمال سے متعلق ایک تہلکہ خیز مقدمے نے سب کو دنگ کردیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ مقدمہ 2017 سے 2019 کے دوران بھارتی بینک "یس بینک" سے حاصل کیے گئے 568 ملین ڈالر سے زائد قرضوں سے متعلق ہے۔

تحقیقات میں الزام لگایا گیا ہے کہ ری لائنس ہوم فنانس لمیٹڈ اور ری لائنس کمرشل فنانس لمیٹڈ نے یس بینک سے لیے گئے قرضوں کو میوچوئل فنڈز کے ذریعے ایسی کمپنیوں میں منتقل کیا جو دراصل گروپ سے منسلک تھیں۔

تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ یہ رقم مختلف شیل کمپنیوں کے ذریعے منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کی گئی۔ اس دوران قرض کی شرائط، دستاویزات اور مالی ضوابط کی خلاف ورزیاں کی گئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یس بینک کے بعض عہدیداروں کو رشوت دینے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں تاکہ قرضوں کی منظوری میں آسانی پیدا کی جا سکے۔

بھارت میں مالیاتی جرائم کی تفتیشی ایجنسی نے ارب پتی صنعتکار انیل امبانی کے زیرِ انتظام ریلائنس انیل دھرو بھائی امبانی گروپ کی 30.

84 ارب بھارتی روپے (تقریباً 351 ملین ڈالر) مالیت کی جائیدادیں منجمد کر دیں۔

منجمد اثاثوں میں ممبئی، دہلی اور چنئی میں واقع رئیل اسٹیٹ، رہائشی یونٹس اور زمین کے قطعات شامل ہیں۔ ان میں سے بعض جائیدادیں انیل امبانی کے خاندان کی ممبئی میں رہائش گاہ سے منسلک ہیں۔

ای ڈی کے مطابق اس کیس میں قرضوں کے ذریعے حاصل کی گئی رقم کو بار بار مختلف اداروں کے درمیان منتقل کر کے فنڈ ایورگریننگ اور فنڈ ری روٹنگ کے ذریعے عوامی رقم کے غلط استعمال کا جرم کیا گیا۔

مزید یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ایجنسی ری لائنس کمیونیکیشن لمیٹڈ اور اس کی ذیلی کمپنیوں کی بھی چھان بین کر رہی ہے، جہاں 136 ارب روپے (تقریباً 1.55 ارب ڈالر) کے فنڈز کے غلط استعمال کا شبہ ہے۔

اب تک انیل امبانی گروپ کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے ذریعے

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم