Daily Mumtaz:
2026-07-24@10:18:38 GMT

کیا نصیبو لال کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT

کیا نصیبو لال کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے؟

مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی پنجابی پلے بیک گلوکارہ نصیبو لال کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نصیبو لال اور ان کے شوہر نوید حسین کی ایک نوزائیدہ بچے کے ہمراہ تصویر خوب وائرل ہو رہی ہے۔

مختلف سوشل میڈیا پیجز کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ گلوکارہ 55 برس کی عمر میں ماں بن گئی ہیں۔ انہیں اسپتال کے گائناکالوجی وارڈ میں بھی دیکھا گیا۔

View this post on Instagram

A post shared by Posh Pulse Pakistan (@poshpulsepakistan)


دوسری جانب وائرل تصاویر کے کمنٹس میں صارفین تبصرہ کرتے ہوئے قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ نصیبول لال ماں نہیں بلکہ دادی بن گئی ہیں۔

ایک صارف نے لکھا کہ یہ ان کا بیٹا نہیں بلکہ ان کے بیٹے مراد کا بیٹا اور ان کا پوتا ہے۔

View this post on Instagram

A post shared by Murtaza Ali Shah (@murtazaviews)


تاہم اس حوالے سے نصیبو لال اور ان کے اہل خانہ نے اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ انہوں نے نوزائیدہ کے بارے میں تفصیلات بھی شیئر نہیں کیں۔

واضح رہے کہ چند ماہ قبل نصیبو لال مبینہ طور پر گھریلو تشدد کا نشانہ بنی تھی لیکن جلد ہی ان کے اور ان کے شوہر کے درمیان معاملات حل ہو گئے تھے، جس کی تصدیق جیو ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ان کے بھائی نے کی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: نصیبو لال اور ان

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونا مزید سستا، فی تولہ قیمت میں کتنی بڑی کمی ریکارڈ ہوئی؟
  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن