ٹیکن چیمپئن ارسلان ایش کے ہاں بیٹے کی پیدائش، تصویر و نام بھی بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
پاکستانی ویڈیو گیمر، ٹیکن اسٹار ارسلان صدیق المعروف ارسلان ایش کے ہاں ننھے مہمان آمد ہوگئی۔
فوٹوز اینڈ ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ای اسپورٹس اسٹار نے مداحوں کے ساتھ خوشخبری شیئر کر دی۔
انہوں نے سوشل میڈیا بلیک اینڈ وائٹ تصویر شیئر کرتے ہوئے بیٹے کی پیدائش کا اعلان کیا۔
View this post on InstagramA post shared by Arslan Ash (@arslan.
انسٹا پوسٹ میں شیئر کی گئی تصویر میں 4 ہاتھ دکھائی دے رہے ہیں، بیٹے کی پیدائش پر اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ ’الحمدللّٰہ، بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے‘۔
انہوں نے بیٹے کو دنیا میں خوش آمدید کہتے ہوئے اس کا نام بھی بتا دیا اور مزید لکھا کہ دنیا میں خوش آمدید، محمد آیان، ہمارا خاندان مکمل ہوگیا ہے۔
واضح رہے کہ ٹیکن چیمپئن ارسلان ایش کا تعلق لاہور سے ہے، اس سے قبل ان کی ایک 2 سالہ بیٹی ہے۔
انہوں نے 8 برس کی عمر میں مقامی گیمنگ آرکیڈز میں کھیلنا سیکھا اور بعد ازاں بین الاقوامی ٹیکن مقابلوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
ارسلان ایش نے رواں سال اگست میں امریکی شہر لاس ویگاس میں منعقد ہونے والے ایوو 2025 کے دوران چھٹی ایوو چیمپئن شپ سیریز (EVO) ٹائٹل جیت کر ایک اور سنگِ میل عبور کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بیٹے کی پیدائش ارسلان ایش انہوں نے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔