والدین میں طلاق کی افواہوں پر آرادھیا کا کیا ردعمل ہوتا ہے: ابھیشک بچن نے بتایا دیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
بھارتی اداکار ابھیشک بچن نے اپنے خاندان کی نجی زندگی پر ہونے والی مسلسل چہ مگوئیوں اور گردش میں رہنے والی افواہوں پر بیٹی آرادھیا کے ردِ عمل پر بات کی ہے۔
ابھیشک بچن نے حال ہی میں اپنے اور اہلیہ، اداکارہ ایشوریا رائے کے درمیان طلاق سے متعلق مسلسل گردش میں رہنے والی افواہوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایشوریا نے آرادھیا کی تربیت اس انداز میں کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ باتوں پر توجہ ہی نہیں دیتی، سوشل میڈیا پر ہونے والی چہ مگوئیوں سے آرادھیا دور رہتی ہے۔
ابھیشک کا کہنا ہے کہ ایشوریا نے آرادھیا میں فلمی دنیا اور اپنے والدین کے کام کے حوالے سے احترام پیدا کیا ہے، گھر میں گفتگو بھی ہمیشہ دوستانہ ماحول اور سچائی پر مبنی ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ گھر کے افراد کو ایک دوسرے پر سوال اٹھانے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ آرادھیا تیزی سے ایک بااعتماد اور واضح رائے رکھنے والی نوجوان بنتی جا رہی ہے، وہ اپنی بات سمجھداری اور سنجیدگی سے سمجھاتی ہے، ہمارا مکمل خاندان نجی معاملات کو گھر تک محدود رکھنے کا خواہاں ہے۔
ابھیشک بچن نے انکشاف کیا کہ آرادھیا سوشل میڈیا سے دور رہتی ہے اور یہ بھی ایک وجہ ہے کہ افواہیں آرادھیا کو متاثر نہیں کر پاتیں، وہ موبائل فون استعمال نہیں کرتی اور اگر اس کے دوستوں کو رابطہ کرنا ہو تو وہ اس کی والدہ کے نمبر پر کال کرتے ہیں۔
اداکار کا کہنا تھا کہ آرادھیا زیادہ تر وقت اپنی پڑھائی کو دیتی ہے اور یہ طے شدہ معاملہ ہے کہ آرادھیا کی آن لائن رسائی صرف تعلیمی مواد تک محدود ہے۔
اداکار نے ماضی کی یاد تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ بیٹی کی پیدائش کی خبر سنتے ہی میں نے سگریٹ اور شراب دونوں چھوڑ دی تھیں اور اب میں اِن کا استعمال نہیں کرتا۔
واضح رہے کہ ابھیشک اور ایشوریا رائے 2007ء میں رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے اور 2011ء میں اِن کے یہاں آرادھیا کی پیدائش ہوئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ابھیشک بچن نے ا رادھیا ہے کہ ا
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔