26 نومبر احتجاج کیس، علیمہ خان کے ضمانتی مچلکے ضبط کرنے کے احکامات جاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
—فائل فوٹو
انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کے ضمانتی مچلکے ضبط کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔
علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت ہوئی جس میں علیمہ خان اور ان کے وکلاء عدالت پیش نہیں ہوئے۔
عدالت نے علیمہ خان کے قابل ضمانت وارنٹ اور ضمانت منسوخی کے نوٹس بھی جاری کر دیے۔ عدالت نے علیمہ خان کو توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری کر دیا۔
پراسیکیوشن کی جانب سے علیمہ خان کے ضمانتی مچلکے ضبط کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا گیا کہ ملزمہ نے عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے وہ ہر سماعت پر پیش ہوں گی۔
بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ فرد جرم پر نہ میرا دستخط ہے اور نہ ہی میرا انگوٹھا ہے۔
جس کے بعد عدالت نے علیمہ خان کے دس دس لاکھ کے 2 ضمانتی مچلکے ضبط کرنے کا حکم دے دیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے کیس کی مزید سماعت 15 دسمبر تک ملتوی کر دی۔
دوسری جانب علیمہ خان انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی پہنچ گئی ہیں۔ ان کے وکیل فیصل ملک بھی عدالت پہنچ گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ضمانتی مچلکے ضبط کرنے علیمہ خان کے
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔