ورلڈ بینک نے 2025 کےلیے چین کی معاشی ترقی کی توقعات بڑھا دیں
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
ورلڈ بینک نے 2025 کےلیے چین کی معاشی ترقی کی توقعات بڑھا دیں WhatsAppFacebookTwitter 0 11 December, 2025 سب نیوز
بیجنگ :ورلڈ بینک نے بیجنگ میں چینی معیشت کی تازہ ترین رپورٹ جاری کی، اور پچھلی رپورٹ کے مقابلے میں 2025 میں چین کی معاشی ترقی کی توقعات کو 0.4 فیصد پوائنٹس بڑھا دیا گیا ۔ورلڈ بینک نے کہا کہ چینی حکومت کی زیادہ فعال مالیاتی پالیسی اور مناسب نرم مانیٹری پالیسی نے گھریلو صارفین اور سرمایہ کاری کو تقویت دی ہے۔ اسی کے ساتھ، چین کی برآمدی مارکیٹ بھی زیادہ متنوع ہو رہی ہے،
جس نے برآمدات کی مضبوطی کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کی ہے۔”آئندہ چند سالوں میں چین کی اقتصادی ترقی زیادہ تر داخلی طلب پر منحصر ہوگی۔” ورلڈ بینک چائنا ڈویژن کی ڈائریکٹر مارا کے واروک نے کہا کہ چین کی زیادہ فعال مالیاتی پالیسی، گہری ساختی اصلاحات اور زیادہ پیش گوئی کے قابل کاروباری ماحول اعتماد بڑھانے میں مددگار ہے اور مضبوط اور مستحکم ترقی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجیل میں قید کسی بھی شخص سے ملاقات ورثا کا آئینی حق ہے،مولانا فضل الرحمان اگلی خبردہشتگرد افغان سرزمین پاکستان کی قومی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، عاصم افتخار فیض حمید کی سزا ابتداء، لمبا چوڑا انصاف کا سلسلہ رکے گا نہیں: فیصل واوڈا سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو 14 سال قید با مشقت کی سزا سنا دی گئی پاکستان کو آئی ایم ایف کی 1.2 ارب ڈالر کی قسط موصول امریکی صدر نے ٹرمپ گولڈ کارڈ کے اجراء کا باقاعدہ اعلان کردیا بھارت کے بغیر پاکستان کے ساتھ ’کسی اتحاد‘ میں شمولیت ممکن ہے: بنگلہ دیش کمبوڈیا میں مقیم پاکستانی شہری کا نام ملک سے واپس جانے پر بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ورلڈ بینک نے ترقی کی چین کی
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔