فیض حمید کیس کا فیصلہ شواہد کی بنیاد پر آیا، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے خلاف فیصلہ ٹھوس شواہد، قانونی کارروائی اور مکمل عدالتی عمل کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آج ریڈ لائن کراس کرنے والے شخص کو سزا ملی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ثابت،جنرل فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی، آئی ایس پی آر
وزیر اطلاعات نے پریس گفتگو میں بتایا کہ فیض حمید کو ٹرائل کے دوران بھرپور موقع دیا گیا کہ وہ اپنا دفاع کریں، گواہان پیش کریں اور ہر الزام کا جواب دیں۔
ان کے مطابق تمام گواہان کے بیانات ریکارڈ ہونے اور شواہد سامنے آنے کے بعد فیصلہ کیا گیا، جو ان کے مطابق مکمل طور پر انصاف پر مبنی ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ فیض حمید نے اپنی اتھارٹی کا غلط استعمال کیا اور انہی الزامات پر وہ قصوروار ٹھہرے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات سے متعلق مزید تحقیقات بھی جاری رہیں گی۔
وزیر اطلاعات کے مطابق ٹاپ سٹی کیس میں بھی فیض حمید سزا پا چکے ہیں، جو اس بات کی مثال ہے کہ فوج کے اندر خود احتسابی کا عمل مضبوط اور واضح ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کون ہیں، انہیں کن جرائم کی سنا دی گئی؟
انہوں نے مزید کہا کہ فیض حمید عملاً پی ٹی آئی کے سیاسی مشیر کے طور پر بھی کام کرتے رہے، اور آج آنے والا فیصلہ حق اور سچ کی فتح ہے، جس نے ثابت کر دیا کہ ریاستی حدود اور قوانین کی خلاف ورزی کے نتائج ناگزیر ہوتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی عطا تارڑ فیض حمید کورٹ مارشل وزیر اطلاعات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی عطا تارڑ فیض حمید کورٹ مارشل وزیر اطلاعات وزیر اطلاعات فیض حمید کو
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔