ڈاکٹر سہیل سلیم پاکستان اینٹی ڈوپنگ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو مقرر
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
ڈاکٹر سہیل سلیم کو پاکستان اینٹی ڈوپنگ بورڈ کا چیف ایگزیکٹو مقرر کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق پی سی بی میڈیکل پینل کے سابق سربراہ کی پاکستان اینٹی ڈوپنگ بورڈ کے سی ای او کے طور پر تقرری کا نوٹیفکیشن جاری ہوگیا۔
ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر سہیل نے بطور سی ای او تقرری کی تصدیق کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ حکومت نے کھیلوں کو ڈوپ فری بنانے کی اہم ذمہ داری سونپی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپنے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کو ڈوپ فری ملک بنانے کی کوشش کروں گا۔
ڈاکٹر سہیل سلیم نے کہا کہ اینٹی ڈوپنگ بورڈ بننے کے بعد اب ہر کھلاڑی کو قواعد کے تحت ڈوپ ٹیسٹ کے مرحلے سے گزرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہونے والی تمام گیمز میں ڈوپنگ ٹیسٹ لیے جائیں گے۔ پاکستان میں ہونے والی تمام کھیلوں میں ڈوپنگ پر زیر و ٹالرنس پالیسی ہوگی۔
ڈاکٹر سہیل سلیم نے مزید کہا کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن سمیت سب کو ساتھ لےکر چلنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اینٹی ڈوپنگ بورڈ ڈاکٹر سہیل سلیم
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔