رواں سیزن کینو کی برآمدات کے لیے تین لاکھ ٹن کا ہدف مقرر
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
کراچی:
پاکستان سے رواں سیزن کینو کی برآمدات کا آغاز ہوگیا ہے، آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن نے رواں سیزن کے لیے تین لاکھ ٹن کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے پورا ہونے پر 110 ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہونے کا امکان ہے۔
یکم دسمبر سے اب تک 6 ہزار ٹن کینو مشرق وسطیٰ، سری لنکا اور فلپائن بھیجا جا چکا ہے۔
گزشتہ سیزن میں پاکستان سے ڈھائی لاکھ ٹن کینو برآمد کیا گیا تھا، جس سے 95 ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا تھا۔
ایسوسی ایشن کے سرپرستِ اعلیٰ وحید احمد کے مطابق اس سال کینو کی بمپر کراپ ہوئی ہے اور مجموعی پیداوار 27 لاکھ ٹن تک رہنے کا امکان ہے، جو گزشتہ سال 17 لاکھ ٹن تھی۔ تاہم پیداوار میں نمایاں اضافے کے باوجود پاکستانی کینو کی برآمدات اب بھی پانچ سال قبل کی 5.
ان کے مطابق اس کمی کی بنیادی وجہ کینو کی کاشت میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کا فقدان اور ماحول کے بدلتے تقاضوں سے ہم آہنگ نئی ورائٹی متعارف نہ کرانا ہے۔
وحید احمد کا کہنا ہے کہ پی ایف وی اے نے حکومت کو کینو کی برآمدات بڑھانے کے لیے قلیل، وسط اور طویل المدتی منصوبہ فراہم کیا ہے، جس پر عمل درآمد کی صورت میں اگلے پانچ سال میں نئی ورائٹیز متعارف کروا کر برآمدات کو 400 ملین ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مصر، امریکا، مراکش اور چین سے نئی ورائٹیز حاصل کر کے پاکستان میں کاشت کرنا ہوگی، جبکہ کم پانی استعمال کرنے والی لیمن، گریپ فروٹ، اورنج اور مینڈرین جیسی اقسام کو ترجیح دینا ہوگی، جن کی عالمی منڈیوں میں طلب بھی موجود ہے۔
ان کے مطابق افغانستان سے تجارت بند ہونے کے باعث وسط ایشیائی ریاستوں اور روس تک زمینی راستے سے کینو کی برآمدات میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ ایران کے ذریعے متبادل راستہ طویل اور مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔ سیزن کے آغاز پر ہی ایران کے راستے فریٹ میں 100 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جب کہ لاجسٹکس کے مسائل بھی درپیش ہیں۔
وحید احمد نے کینو کی برآمدات بڑھانے کے لیے قومی سطح پر حکمتِ عملی اپنانے، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کو فروغ دینے اور پانی کی قلت کے پیش نظر جدید آبپاشی طریقوں پر منتقل ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کینو کی برآمدات لاکھ ٹن کے لیے
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم