آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا اعلامیہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
اسلام آباد:
آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے ایک اہم مالی پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کے دوسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی پروگرام کے پہلے جائزے کی منظوری دے دی ہے۔
آئی ایم ایف کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ان منظوریوں کے بعد پاکستان کو تقریباً 1 ارب ڈالر کی قسط مل سکے گی، جبکہ 20 کروڑ ڈالر تک اضافی رسائی بھی حاصل ہو جائے گی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ رواں برس آنے والے تباہ کن سیلاب کے باوجود حکومت پاکستان نے مضبوط معاشی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں مالی اور بیرونی شعبوں میں استحکام برقرار رہا۔
آئی ایم ایف نے اپنی پالیسی ترجیحات میں میکرو اکنامک استحکام، پبلک فنانس اصلاحات اور مسابقت میں اضافہ کو بنیادی نکات قرار دیا ہے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں پیداواری صلاحیت بڑھانے، سماجی تحفظ کو مضبوط کرنے، ہیومن کیپیٹل ڈیولپمنٹ اور سرکاری اداروں میں اصلاحات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
توانائی کے شعبے کی پائیداری، عوامی خدمات کی بہتری اور اصلاحاتی عمل کی تسلسل کو بھی آئی ایم ایف نے ضروری قرار دیا ہے۔
اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ حالیہ سیلاب نے پاکستان کے لیے فوری ماحولیاتی اقدامات کی اہمیت واضح کر دی ہے، اور حکومت ماحولیاتی لچک بڑھانے کے لیے اصلاحات پر پیش رفت کر رہی ہے جس میں آئی ایم ایف کے آر ایس ایف پروگرام کے تحت معاونت شامل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔